لبنانی صدر جوزف عون کی جانب سے واشنگٹن میں اعلان کردہ معاہدے کو جامع جنگ بندی کے لیے "آخری موقع" قرار دینے کے بعد، حزب اللہ نے اس معاہدے کو شرم ناک قرار دیا ہے۔
حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نعیم قاسم نے آج جمعرات کے روز ایک بیان میں لبنانی حکام پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ "مذاکرات" کے نام پر ہونے والی تذلیل کا سلسلہ بند کریں۔ انھوں نے اسے "ہتھیار ڈالنے اور شکست" سے تعبیر کیا۔ قاسم نے مطالبہ کیا کہ جنگ بندی کا اطلاق پورے لبنان پر ہونا چاہیے اور اسرائیلی افواج کو پورے جنوب سے انخلاء کرنا چاہیے۔ قاسم نے واضح کیا کہ جب تک دیہات پر قبضہ اور بم باری جاری ہے، حزب اللہ کے عناصر جنوب سے نہیں نکلیں گے اور نہ ان کی موجودگی کو جنگ بندی یا اسرائیلی فوج کے انخلاء سے مشروط کیا جائے گا۔
حزب اللہ کے ایک عہدے دار نے بھی تصدیق کی کہ تنظیم نے لبنانی حکام کو معاہدے کے مسترد ہونے کی اطلاع دے دی ہے۔
دوسری جانب لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے کابینہ کے اجلاس کے آغاز میں خبردار کیا کہ "جو کوئی بھی لبنان کے مفاد کو ترجیح نہیں دے گا، وہی نتائج کا ذمہ دار ہوگا"۔ انہوں نے مذاکرات کو لبنانی عوام اور جنوب کے لیے سب سے تیز اور کم قیمت راستہ قرار دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ دریائے لیطانی کے جنوب کو اسلحہ اور مسلح افراد سے پاک کرنا کسی کی شرط نہیں، بلکہ یہ لبنان کا وہ وعدہ ہے جو اس نے 2006 میں قرارداد 1701 کی منظوری کے وقت دنیا سے کیا تھا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیلی کابینہ آج شام معاہدے پر غور کرنے کے لیے اجلاس منعقد کرے گی۔
دریں اثناء پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے حزب اللہ کے رد عمل سے قبل ہی "شرائط" کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی مطالبہ اسرائیل کا ان مقامات پر واپس جانا ہے جہاں وہ 28 فروری کو ایران پر شروع ہونے والی جنگ سے قبل قابض تھا۔
لبنانی صدر نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی تمام متعلقہ فریقوں کی منظوری کے 24 گھنٹوں کے اندر نافذ ہو سکتی ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے کہا ہے کہ فی الحال جنوب میں زمینی کارروائیاں جاری رہیں گی، جب تک حزب اللہ شمالی اسرائیل پر حملے بند کر کے دریائے لیطانی کے جنوب سے اپنے جنگجوؤں کو واپس نہ بلا لے۔
معاہدے کے تحت حزب اللہ کو جنوب سے انخلاء کرنا ہے اور لبنان کی فوج کو وہاں تعینات ہونا ہے، جس کے بدلے اسرائیل بیروت کے جنوبی مضافات کو نشانہ نہ بنانے کا پابند ہوگا۔
-
جنگ بندی معاہدہ: اسرائیل حزب اللہ نے لیطان کے شمال میں اسرائیلی موجودگی قبول کر لی
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنوبی لبنان میں حزب اللہ سے خالی ''تجرباتی سکیورٹی ...
مشرق وسطی -
حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں یونيفل کی پوزیشن کو نشانہ بنا دیا:اسرائیلی فوج کا دعویٰ
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ نے لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس ...
بين الاقوامى -
قاآنی کا حزب اللہ کےمعاہدے پر رد عمل سےقبل ہی "لبنان کی منظوری کے لیے اپنی شرائط" کااعلان
پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان ...
بين الاقوامى