پیر کے روز شامی صدر احمد الشرع کی وائٹ ہاؤس آمد کو ایک تاریخی دورہ قرار دیا گیا جہاں انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔
تاہم الشرع کی آمد کے موقع پر یہ سوالات اٹھے کہ وہ وائٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے کے بجائے جانبی دروازے سے کیوں داخل ہوئے۔
اس بارے میں امریکہ میں تعینات شامی سفیر بسام بربندی نے العربیہ/الحدث سے گفتگو میں وضاحت کی کہ الشرع کا یہ دورہ "سرکاری ریاستی دورہ" نہیں بلکہ "نجی نوعیت" کا تھا۔
لقائي مع العربية
— Bassam Barabandi بسام بربندي (@BASSAMVA) November 10, 2025
لماذا دخل الرئيس الشرع من جاب الجانبي للبيت الابيض@AlArabiya @Nayef_tv pic.twitter.com/qv0TGVJW0E
انھوں نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے پروٹوکول کے مطابق اگر کوئی ملاقات سرکاری دورے کے بجائے نجی یا غیر رسمی حیثیت رکھتی ہو، تو اس میں استقبالیہ تقریب، سرکاری جھنڈے یا مرکزی داخلی راستے سے آمد شامل نہیں ہوتی۔
بربندی کے مطابق، چونکہ الشرع کا دورہ اسی زمرے میں آتا تھا اس لیے ان کا داخلہ وائٹ ہاؤس کے پہلو میں واقع جانبی دروازے سے کرایا گیا۔
ذرائع کے مطابق الشرع کی وائٹ ہاؤس آمد خاموشی سے ہوئی اور وہ اس مرکزی دروازے سے نہیں گزرے جہاں عام طور پر غیر ملکی رہنماؤں کے استقبال کے لیے میڈیا موجود ہوتا ہے۔
الشرع جانبی دروازے سے داخل ہوئے، جہاں صحافی اور کیمرے موجود نہیں تھے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ وہ شام کی کامیابی کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔
انھوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ صدر الشرع کو "نہایت طاقت ور قائد" سمجھتے ہیں اور ان پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا "ہم شام کی کامیابی کے لیے اپنی بھرپور کوشش کریں گے"۔
تاریخی اعتبار سے یہ پہلا موقع تھا جب کسی شامی صدر نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا۔
چھ ماہ بعد قبل دونوں صدور پہلی بار سعودی عرب میں ایک بین الاقوامی اجلاس کے دوران ملے تھے۔
اسی دوران امریکی وزارتِ خزانہ نے اعلان کیا کہ وہ شام پر عائد قیصر قانون (Caesar Act) کے تحت پابندیوں میں نرمی جاری رکھے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ نیا فیصلہ 23 مئی 2024 کے سابقہ استثناء کی جگہ لے گا، جو 2019 میں نافذ ہونے والے قیصر قانون سے متعلق ہے۔ یہ وہ قانون تھا جس کے تحت سابق صدر بشار الاسد کے دور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر وسیع پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
نئی ہدایت کے مطابق اس استثناء میں 180 دنوں کی مزید توسیع کر دی گئی ہے۔