نائیجیریا: کیتھولک سکول سے اغوا 300میں سے 50 طلبہ فرار ہونے میں کامیاب

خوش خبری ملی، جمعہ کو اغوا ہونے والے پچاس طلبہ گھروں کو واپس آگئے: کرسچن ایسوسی ایشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اتوار کو ایک عیسائی ایسوسی ایشن نے بتایا کہ نائیجیریا میں جمعہ کو ایک کیتھولک سکول سے اغوا کیے گئے 300 سے زائد طلبہ میں سے 50 فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ فرانسیسی پریس ایجنسی کے مطابق نائیجیریا کی کرسچن ایسوسی ایشن نے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں ایک خوش خبری ملی ہے۔ پچاس طلبہ فرار ہو کر اپنے گھروں کو واپس آ گئے ہیں۔ یہ فرار جمعہ اور ہفتہ کے درمیان ہوا۔ مسلح افراد نے جمعہ کو علی الصبح نائیجر ریاست میں سینٹ میری کیتھولک مخلوط سکول پر حملہ کیا اور 303 طلبہ اور 12 اساتذہ کو اغوا کر لیا۔

اغوا کی یہ واردات ایک اور مسلح گروپ کی جانب سے پیر کو پڑوسی ریاست کیبی میں ایک سکول پر حملہ کرنے کے بعد ہوئی جہاں سے 25 لڑکیوں کو اغوا کیا گیا تھا۔ سینٹ میری سکول سے اغوا کیے گئے طلبہ کی عمریں آٹھ سے 18 سال کے درمیان ہیں جو سکول کے تقریباً نصف طلبہ کی تعداد ہے۔ سینٹ میری سکول کے سربراہ اور مالک پادری پولس یوحنا نے ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ فرار ہونے والے پچاس طلبہ کی واپسی سے ہمیں کچھ سکون ملا ہے۔ تاہم میں آپ سب پر زور دیتا ہوں کہ باقیوں کی حفاظت اور واپسی کے لیے دعا جاری رکھیں۔

یاد رہے نائیجیریا ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل ملک کے شمال مشرق میں بورنو ریاست کے چیبوک قصبے میں بوکو حرام کے جنگجوؤں کے ہاتھوں تقریباً 300 لڑکیوں کے اغوا کے اثرات سے اب بھی دوچار ہے۔ ان میں سے کچھ لڑکیاں اب بھی لاپتہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں