برازیلی فٹبال کلب گوئٹاکاز کے کھلاڑی یوری ڈی کاروالیو نے اس وقت سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا جب وہ منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں جیل سے رہائی کے فوراً بعد مقامی سیکنڈ ڈویژن لیگ کے ایک میچ میں بائیں ٹخنے پر الیکٹرانک بَینڈ باندھ کر کھیلتے ہوئے نظر آئے۔
30 سالہ وسطی میدان کے کھلاڑی نے ماکائی کے خلاف میچ میں شرکت کی جو ایک ایک گول سے برابر رہا۔ یوری بطور متبادل شامل ہوئے اور دوسرے ہاف میں تقریباً بیس منٹ تک کھیلتے رہے جس کے بعد وہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے۔
میچ کے دوران تمام نگاہیں ان کے بائیں ٹخنے پر بندھے الیکٹرانک بَینڈ پر تھیں۔ برازیل میں اس بات پر وسیع بحث چھڑ گئی کہ آیا کسی کھلاڑی کا اس پابندی کے ساتھ میدان میں اترنا قانونی ہے یا نہیں۔ تاہم گوئٹاکاز کلب سے منسلک ایک ذریعے نے گلوبو اسپورٹ کو بتایا کہ یہ بَینڈ ایک رکاوٹ ضرور ہے لیکن کھلاڑی کو کھیلنے سے نہیں روکتا۔
ریو ڈی جانیرو فٹبال فیڈریشن کے ٹورنامنٹ قوانین میں بھی ایسا کوئی ضابطہ شامل نہیں جو کھلاڑی کو الیکٹرانک بَینڈ کے ساتھ میدان میں آنے سے منع کرے۔
یوری ڈی کاروالیو کو سنہ 2018ء میں منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ گذشتہ سات برس سے جیل میں قید تھے۔ انہیں مئی میں رہا کیا گیا تاہم باقی ماندہ سزا وہ الیکٹرانک بَینڈ پہن کر ہی پوری کریں گے۔ یہ ایک ٹریکنگ ڈیوائس ہے جو ٹخنے پر باندھی جاتی ہے تاکہ متعلقہ حکام مقام کی نگرانی کر سکیں۔
برازیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ کھلاڑی کے قریبی ذرائع اسے "پُرسکون مزاج" شخص قرار دیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کلب ان پر مکمل بھروسہ کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر گوئٹاکاز نے ان کا معاہدہ بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔