پوپ لیو کی جانب سے یورپ، امریکہ میں مسلم مخالف جذبات پر تنقید
دورۂ لبنان سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو
پوپ لیو چہاردہم نے منگل کے روز اسلام کے حوالے سے "خدشات" میں اضافہ کرنے والے مہاجرین مخالف کارکنان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ لبنان میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان تعاون کو یورپ اور امریکہ کے لیے ایک مثال ہونا چاہیے۔
ستر سالہ پوپ نے دورۂ ترکی اور لبنان کے اختتام پر ہوائی جہاز میں صحافیوں سے بات کی۔
لیو چہاردہم نے کہا، مسلم مخالف جذبات "اکثر ایسے لوگ پیدا کرتے ہیں جو امیگریشن کے خلاف ہیں اور ایسے مہاجرین کو باہر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جو کسی دوسرے ملک، دوسرے مذہب یا کسی دوسری نسل سے ہو سکتے ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ ان کے دورۂ لبنان کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ "مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان مکالمہ اور دوستی ممکن ہے۔"
لیو نے کہا کہ انہوں نے دورانِ سفر عیسائیوں اور مسلمانوں کے ایک دوسرے کی مدد کرنے کی جو کہانیاں سنیں، وہ ایسے "اسباق ہیں۔۔ کہ ہمیں شاید کچھ کم خوفزدہ ہونا چاہیے۔"
وہ یورپ اور امریکہ میں بڑھتے ہوئے قوم پرستانہ جذبات پر تنقید کرتے رہے ہیں اور انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں تارکینِ وطن کے ساتھ "غیر انسانی سلوک" بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے پیروکاروں کو "احساسِ برتری والی ذہنیت" کو مسترد کرنے کی پُرزور تلقین بھی کی ہے جو ان کے خیال میں تمام دنیا میں قوم پرستی پیدا کرنے کا سبب ہے۔
لیو نے کہا ہے، کیتھولک چرچ کو چاہیے کہ "لوگوں کے درمیان سرحدیں کھول دے اور طبقات اور نسلوں کے درمیان حائل رکاوٹیں ختم کرے۔"