راکٹوں سے لے کر انٹیلی جنس تک ٹرمپ نیٹو کے فرائض یورپ کے سپرد کرنے جا رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

پینٹاگون کے عہدیداروں نے اس ہفتے واشنگٹن میں سفارت کاروں کو بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ 2027 تک انٹیلی جنس سے لے کر میزائلوں تک شمالی اوقیانوسی معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کی روایتی دفاعی صلاحیتوں کا بڑا حصہ یورپ کے سپرد کرنا چاہتا ہے۔ کچھ یورپی عہدیداروں نے اس تاریخ کو غیر حقیقی قرار دیا۔ یاد رہے اس بوجھ کو امریکہ سے نیٹو کے یورپی اراکین کو منتقل کرنا اپنے سب سے اہم فوجی شراکت داروں کے ساتھ امریکہ کے کام کرنے کے انداز کو یکسر بدل دے گا۔

اس کے علاوہ واشنگٹن میں اس ہفتے نیٹو کی پالیسی کی نگرانی کرنے والے پینٹاگون کے وفد اور کئی یورپی وفود کے درمیان ہونے والی بات چیت سے واقف پانچ ذرائع نے واضح کیا کہ پینٹاگون کے حکام نے کہا ہے کہ امریکہ 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے یورپ کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے میں کی گئی پیش رفت سے اب تک مطمئن نہیں ہے۔ رائٹرز نے جمعہ کو رپورٹ کیا ہے کہ امریکی حکام نے اپنے ہم منصبوں کو بتایا کہ اگر یورپ 2027 کی آخری تاریخ پر عمل نہیں کرتا ہے تو امریکہ نیٹو کے بعض دفاعی رابطہ کاری کے طریقہ کار میں حصہ لینا بند کر سکتا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے یہ بھی انکشاف کیا کہ کانگریس کے کچھ عہدیدار پینٹاگون کے یورپیوں کو بھیجے گئے پیغام سے واقف ہیں اور اس پر پریشان ہیں۔

ٹرمپ [اے پی]
ٹرمپ [اے پی]

کوئی وضاحت نہیں

تاہم حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکہ یورپ کی طرف سے زیادہ تر دفاعی بوجھ اٹھانے کی طرف پیش رفت کو کس طرح ماپے گا۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا 2027 کی آخری تاریخ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے موقف کی عکاسی کرتی ہے یا محض پینٹاگون کے کچھ عہدیداروں کے خیالات کی کیونکہ واشنگٹن میں اس بارے میں بڑے اختلافات موجود ہیں کہ امریکہ کو یورپ میں کیا فوجی کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس کے جواب میں کئی یورپی عہدیداروں نے کہا ہے کہ پیش رفت کی پیمائش کے طریقہ کار سے قطع نظر 2027 کی آخری تاریخ غیر حقیقی ہے ۔ کیونکہ یورپ کو قلیل مدت میں امریکہ کی بعض صلاحیتوں کو تبدیل کرنے کے لیے صرف پیسے اور سیاسی ارادے سے زیادہ کی ضرورت ہے۔

نیٹو کے ارکان کو دیگر چیلنجوں کا بھی سامنا ہے جن میں اس فوجی ساز و سامان کی پیداوار میں تاخیر شامل ہے جسے وہ خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی حکام نے یورپ کو مزید امریکی ساز و سامان خریدنے کی ترغیب دی ہے لیکن بعض سب سے زیادہ مطلوب امریکی ہتھیاروں اور دفاعی نظاموں کی ترسیل میں آج آرڈر دیے جانے پر بھی کئی سال لگیں گے۔ اسی طرح امریکہ ایسی صلاحیتوں کا حصہ ڈالتا ہے جو آسانی سے خریدی نہیں جا سکتیں۔ اس میں انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی شامل ہے اور یہ چیز روس- یوکرین جنگ میں اپنی اہمیت ثابت کر چکی ہیں۔

یورپی ردعمل

اس معلومات کے جواب میں نیٹو کے ایک عہدیدار نے کہا کہ یورپی اتحادیوں نے براعظم کی سلامتی کی زیادہ ذمہ داری لینا شروع کر دی ہے۔ تاہم انہوں نے 2027 کی آخری تاریخ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور مزید کہا کہ نیٹو کے ارکان نے دفاع میں زیادہ سرمایہ کاری کرنے اور روایتی دفاع کا بوجھ امریکہ سے یورپ کی طرف منتقل کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا ہے۔ واضح رہے یورپی ممالک نے عام طور پر ٹرمپ کے اپنی سلامتی کی زیادہ ذمہ داری لینے کے مطالبے پر رضامندی ظاہر کی تھی اور دفاعی اخراجات میں خاطر خواہ اضافے کا وعدہ کیا تھا۔

نیٹو اور یورپی یونین
نیٹو اور یورپی یونین

یورپی یونین نے بھی 2030 تک براعظم کو اپنا دفاع کرنے کے لیے تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جس میں فضائی دفاع، ڈرونز، سائبر صلاحیتوں اور گولہ بارود وغیرہ میں موجود خلاء کو پر کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

متزلزل تعلقات

ٹرمپ انتظامیہ نے یورپی اتحادیوں پر بارہا الزام لگایا ہے کہ وہ اتحاد کے دفاعی بجٹ میں کافی حصہ نہیں ڈال رہے ہیں۔ اپنی 2024 کی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے یورپی ممالک پر سخت تنقید کی اور کہا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوتین کو نیٹو کے ان ممالک پر حملہ کرنے کی ترغیب دیں گے جو دفاع پر اپنا منصفانہ حصہ خرچ نہیں کرتے۔ تاہم گذشتہ جون میں نیٹو رہنماؤں کے سالانہ سربراہی اجلاس میں ٹرمپ نے دفاعی اخراجات کو رکن ممالک کی جی ڈی پی کے پانچ فیصد تک بڑھانے کے امریکی منصوبے پر رضامندی ظاہر کرنے پر یورپی رہنماؤں کی گرمجوشی سے تعریف کی تھی۔ تب سے امریکی صدر کا موقف روس – جو اتحاد کا بنیادی مخالف ہے – کے حوالے سے ایک سخت گیر رویے اور یوکرینی تنازع پر اس کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادگی کے درمیان جھولتا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں