"العربیہ" خطے کے بحرانوں پر رائے عامہ تشکیل دے رہا: گوتریس کا آفس کا دورہ
یو این سیکرٹری جنرل نے ریاض میں "العربیہ" کے ریاض میں نئے ہیڈ کوارٹرز میں سٹوڈیوز کے جدید انتظامات کی تعریف کی
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جمعرات کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ’’العربیہ‘‘ اور ’’ الحدث‘‘ چینلز کے جنرل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا۔ گوتیریس نے خطے کے بحرانوں کو سمجھنے اور اپنی اقدار کا دفاع کرنے کے قابل عرب رائے عامہ کی تشکیل میں چینل کے کردار پر زور دیا۔ گوتریس نے ’’العربیہ‘‘ ، جو اپنے نئے ہیڈ کوارٹر ریاض منتقل ہو چکا ہے، کے لیے ایک پیغام دیا جس میں انہوں نے ہیڈ کوارٹرز اور سٹوڈیوز کے جدید آلات کی تعریف کی۔
یو این سیکرٹری جنرل، جنہوں نے العربیہ کے سٹوڈیوز میں انٹرویو دیا، نے مزید کہا کہ یہ ایک شاندار سٹوڈیو ہے۔ میں نے نیویارک شہر کے چھوٹے سٹوڈیو میں العربیہ چینل کے ساتھ کئی انٹرویو کیے ہیں اور مجھے یاد ہے کہ میں نے پچھلے سال دبئی میں بھی چینل کے ساتھ انٹرویو کیا تھا لیکن اس نئے، جدید سٹوڈیو کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ گوتریس نے مزید کہا کہ میں ’’العربیہ‘‘ چینل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں کہ وہ خطے اور اس سے باہر کے سامعین کو تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کرنے کا اپنا کردار جاری رکھےاور ایک ایسی رائے عامہ کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرے جو دنیا میں ہونے والے واقعات کو سمجھ سکے اور ان اقدار کا دفاع کر سکے جو ہم سب مشترکہ طور پر رکھتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جمعرات کو ریاض میں ’’العربیہ‘‘ کے نئے ہیڈ کوارٹرز کے دورے کا مقصد خطے کو متاثر کرنے والے ڈرامائی بحرانوں کے بارے میں ناظرین سے بات کرنا تھا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا میرے دورے کا مقصد یہ ہے کہ مجھے ’’ \العربیہ‘‘ چینل کے ان تمام ناظرین سے بات کرنے کا موقع ملے جن کے خیالات بہت اہم ہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب یہ خطہ سوڈان جیسے بحرانوں، فلسطینی عوام کے مسئلے اور ایک فلسطینی ریاست کی ضرورت، لبنان کو درپیش بڑے خطرات، شام میں پیش رفت کی امید اور یمن میں انتہائی پریشان کن کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔
گوتیریس نے ان مسائل پر بحث کا انتظام کرنے کی اہمیت اور اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ رائے عامہ ان بحرانوں کی تفصیلات سے واقف ہو ۔ انہوں نے تاکید کی کہ ’’ العربیہ‘‘ چینل یہ کردار ایک بہت ہی مثبت طریقے سے ادا کر رہا ہے۔ واضح رہے جمعرات کو ’’ العربیہ‘‘ کے ہیڈ کوارٹر سے نشر ہونے والے اپنے انٹرویو میں گوتریس نے ریپڈ سپورٹ فورسز پر سوڈان میں مظالم کے ارتکاب کا الزام لگایا اور اعلان کیا کہ سوڈان میں تنازع کے دونوں فریق، فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز، جنیوا میں ملاقات کریں گے تاہم انہوں نے اس متوقع ملاقات کی کوئی تاریخ نہیں بتائی ۔