امیر چینی شہری "کرایہ پر رحم" کے ذریعے امریکہ میں درجنوں بچے پیدا کرانے لگے

ایک ایسا رجحان جو شہریت کے قوانین کو پرکھ رہا اور بڑے خاندانوں سے متعلق قانونی اور اخلاقی بحث چھیڑ رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 11 منٹ

لاس اینجلس کی ایک بند عدالت کے کمرے کے اندر فیملی کورٹ کے عملے نے رحم کرائے پر دینے کی درخواستوں کا جائزہ لیتے ہوئے ایک غیر معمولی چیز دیکھی۔ ایک ہی نام کئی بار دہرایا جا رہا تھا اور مزید گہرائی سے جانچ پڑتال کے بعد یہ سامنے آیا کہ ایک چینی ارب پتی چار مزید غیر مولود بچوں کے لیے ولدیت کے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ پہلے ہی آٹھ یا اس سے زیادہ بچوں کو جنم دے چکا ہے یا جنم دینے والا ہے جو سب کے سب امریکہ میں سروگیٹ ماؤں کے ذریعے پیدا ہوئے۔

2023 کی گرمیوں کے دوران جج ایمی بیلمین نے چینی بزنس مین شو بو کو ایک خفیہ سماعت کے لیے طلب کیا لیکن شو خود ذاتی طور پر حاضر نہیں ہوا بلکہ مترجم کا استعمال کرتے ہوئے چین سے ویڈیو کال کے ذریعے شرکت کی۔ سماعت کے دوران فینٹسی ویڈیو گیمز بنانے والے چینی بزنس مین نے کہا کہ وہ ’’ تأجیر ارحام ‘‘ یعنی رحم کرائے پر لینے کے ذریعے تقریباً 20 امریکی نژاد بچے پیدا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور لڑکوں کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ وہ لڑکیوں سے بہتر ہیں۔ ان کے بقول یہ بچے مستقبل میں اس کے کاروبار کو سنبھالیں گے۔

شو نے بتایا کہ ان کے کچھ بچوں کی پرورش لاس اینجلس کے قریب ارواین شہر میں نینیوں کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ یہ اس وقت تک امریکہ میں رہیں گے جب تک ان کے چین سفر کے کاغذات مکمل نہیں ہو جاتے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کام میں مصروفیت کی وجہ سے وہ ابھی تک ان سے نہیں مل پائے ہیں۔ سماعت میں موجود افراد کے مطابق جج بیلمین شدید تشویش میں تھیں کیونکہ ان کی نظر میں ’’ تأجیر ارحام‘‘ خاندانوں کو بنانے کا ایک ذریعہ ہے، نہ کہ بڑے پیمانے پر بچے پیدا کرنے کا منصوبہ ہے ۔ ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے انہوں نے ولدیت ثابت کرنے کی ان کی درخواست مسترد کر دی جو عام طور پر ایسے معاملات میں جلدی سے منظور ہو جاتی ہے جس میں بچے ایک غیر یقینی قانونی صورتحال میں پھنس گئے ہوں۔

یہ کیس، جسے "وال سٹریٹ جرنل" اخبار نے بے نقاب کیا، اس سے پہلے خفیہ رکھا گیا تھا۔ عدالت نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ شو، جو انٹرنیٹ پر بہت زیادہ فعال ہیں لیکن عوامی طور پر نظر آنے سے گریز کرتے ہیں، انہیں تقریباً ایک دہائی سے عوامی مقامات پر نہیں دیکھا گیا۔ ان کی کمپنی "ڈووی نیٹ ورک" نے صرف اتنا کہا کہ ان کے چیئرمین انٹرویوز نہیں دیتے اور یہ کہ اخبار میں دی گئی بہت سی باتیں درست نہیں ہیں۔

نیم غیرمنظم صنعت کا بڑھتا ہوا رجحان

اخبار کا کہنا ہے کہ جج بیلمین کا فیصلہ امریکی ’’ تأجیر ارحام ‘‘ صنعت کے اندر ایک بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک نایاب سرزنش تھا۔ ایک ایسی صنعت جو بڑی حد تک غیر منظم ہے۔ چینی اشرافیہ کی بڑھتی ہوئی تعداد، جن میں ارب پتی بھی شامل ہیں، چین میں تأجیر ارحام پر پابندی سے بچنے کے لیے سروگیٹ ماؤں کے ذریعے بچے پیدا کرنے کے لیے امریکہ کا رخ کر رہے ہیں۔

ان کارروائیوں سے متعلق عدالتی طریقہ کار کی رازداری کی وجہ سے نگرانی محدود رہتی ہے۔ ان امیر لوگوں میں سے کچھ، جو ایلون مسک کے تجربے سے متاثر ہیں، جو زیادہ تعداد میں بچوں کو جنم دینے کے لیے جانے جاتے ہیں، بڑے خاندان بنانے کے لیے امریکی خواتین کی خدمات حاصل کرنے پر لاکھوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ شو بو، جو سوشل میڈیا پر خود کو "چین کا پہلا باپ" قرار دیتے ہیں، نسواں مخالف موقف کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ "وال سٹریٹ جرنل" کے مطابق ان سے منسلک اکاؤنٹس بتاتے ہیں کہ انہوں نے امریکہ میں تأجیر ارحام کے ذریعے 100 سے زیادہ بچے پیدا کیے ہیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ شو واحد مثال نہیں ہیں۔ ایک اور چینی بزنس مین وانگ ہئی وو نے 10 بیٹیاں پیدا کرنے کے لیے ماڈلز اور دیگر خواتین کو انڈا عطیہ کرنے والوں کے طور پر استعمال کیا تاکہ مستقبل میں وہ عالمی سطح پر بااثر مردوں سے شادی کر سکیں۔ کم انتہا کی صورتوں میں سینیئر ایگزیکٹوز، بڑی عمر کے والدین، یا ہم جنس جوڑے ان خدمات کا سہارا لیتے ہیں اور ان سب میں ایک مشترکہ عنصر زیادہ دولت ہے۔ چین کے اندر قانونی اور میڈیا کی پیچیدگیوں کو سنبھالنے کی صلاحیت ہے کیونکہ ان میں سے کچھ سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں جو انہیں احتساب سے بچاتا ہے۔

والدین کی غیر موجودگی

اخبار نے واضح کیا کہ مارکیٹ اس حد تک ترقی کر چکی ہے کہ کچھ چینی والدین نے ملک میں قدم رکھے بغیر ہی امریکی نژاد بچوں کو جنم دیا ہے۔ ایک مکمل ماحولیاتی نظام تیار ہو چکا ہے جس میں ’’ تأجیر ارحام‘‘ ایجنسیاں، زرخیزی کے کلینکس، قانونی فرمیں، نوزائیدہ بچوں کو ہسپتالوں سے منتقل کرنے والی کمپنیاں اور فل ٹائم نینی خدمات شامل ہیں۔ ایک بچے پر لاگت تقریباً دو لاکھ ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔

’’ آئی وی ایف یو ایس اے ‘‘ کلینک نیٹ ورک کے بانی ناتھن چانگ نے کہا ہے کہ ان کے گاہک پہلے چین میں ایک بچے کی پالیسی سے بچنا چاہتے تھے لیکن آج نئے انتہائی امیر گاہک سامنے آئے ہیں جو ایک ناقابل تسخیر خاندانی نسل بنانے کے لیے درجنوں یا سینکڑوں بچے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چانگ بتاتے ہیں کہ ایک چینی بزنس مین ایک ہی وقت میں 200 سے زیادہ بچے پیدا کرنا چاہتا تھا۔ چانگ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا آپ ان کی پرورش کیسے کریں گے؟ تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ دیگر ماہرین نے بھی کئی ایجنسیوں کے ذریعے 100 یا اس سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی درخواستوں کا ذکر کیا ہے۔

اگرچہ پیشہ ورانہ سفارشات میں کہا گیا ہے کہ ایک ہی والدین کے لیے ایک وقت میں دو سے زیادہ ’’ تأجیر ارحام‘‘ کی کارروائیاں نہ کی جائیں لیکن یہ سفارشات عملی طور پر غیر پابند ہیں اور والدین کو ایک ہی وقت میں کئی ایجنسیوں سے نمٹنے سے روکنے کے لیے کوئی موثر طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

امریکی شہریت کا تنازعہ

امریکی قوانین کے تحت، امریکہ میں پیدا ہونے والے بچے آئین کی 14ویں ترمیم کے تحت خود بخود امریکی شہریت حاصل کر لیتے ہیں جس سے یہ رجحان سیاسی طور پر حساس ہو جاتا ہے۔ 2020 میں امریکی محکمہ خارجہ نے ویزا دینے کے قواعد کو سخت کیا تاکہ پیدائشی سیاحت کے نام سے جانے والے رجحان کو محدود کیا جا سکے۔ گزشتہ جنوری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا جو امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو اس وقت تک شہریت دینے سے روکتا ہے جب تک کہ والدین میں سے کوئی ایک شہری یا مستقل رہائشی نہ ہو۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو ابھی بھی سپریم کورٹ کے جائزے کے تحت ہے اور یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ کیا یہ اقدامات ’’ تأجیر ارحام ‘‘ کے معاملات پر لاگو ہوتے ہیں یا نہیں۔

گزشتہ ماہ ریپبلکن سینیٹر ریک سکاٹ نے ایک ایسا بل پیش کیا جس میں چین سمیت مخصوص ممالک کے لوگوں کی جانب سے امریکہ میں تأجیر ارحام کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس میں ایک چینی- امریکی جوڑے کے وفاقی تحقیقات کا حوالہ دیا گیا تھا جن کے چار سال کے دوران 20 سے زیادہ بچے تھے جن میں سے زیادہ تر سروگیٹ ماؤں کے ذریعے پیدا ہوئے تھے۔ رپورٹس میں بتایا گیا کہ ایف بی آئی اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے تفتیش کاروں نے کچھ سروگیٹ ماؤں سے پوچھ گچھ کی جنہوں نے چینی والدین کے ساتھ کام کیا تھا لیکن تحقیقات کی نوعیت واضح نہیں کی گئی۔

چین کا محتاط موقف اور اخلاقی تنقیدیں

اگرچہ چینی حکام اکثر اپنے شہریوں کی بیرون ملک تأجیر ارحام کا سہارا لینے سے صرف نظر کرتے ہیں لیکن انہوں نے کھلے عام اس رجحان پر تنقید کی ہے۔ واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے اخبار کو بتایا کہ صحت کے حکام کا خیال ہے کہ تأجیر ارحام سنگین اخلاقی اور سماجی بحرانوں کا باعث بن سکتا ہے۔ چین کے اندر اسی طرح کے معاملات نے بڑے سکینڈلز کو پیدا کیا ہے۔ ان سکینڈلز میں اداکارہ ژینگ شوانگ کا معاملہ سب سے نمایاں ہے جنہوں نے امریکہ میں سروگیٹ ماؤں کی مدد لی اور پھر بچوں کو ترک کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں انہیں پیشہ ورانہ طور پر خارج کر دیا گیا اور ان پر مالی جرمانہ عائد کیا گیا۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کے اندر بھی سابق وزیر خارجہ کن گینگ کے سکینڈل کے بعد سوالات اٹھائے گئے جس کا تعلق امریکہ میں تأجیر ارحام کے ذریعے ایک بچے کو جنم دینے سے تھا۔

بغیر جوابات کے سوالات

یہ رجحان پیسے، قانون اور اخلاقیات کے درمیان ایک پیچیدہ توازن کو بے نقاب کر رہا ہے۔ یہ امریکہ کو پیدائشی شہریت کے حق، تأجیر ارحام کی صنعت کو منظم کرنے اور بچوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق چیلنجوں کا سامنا کرنے پر مجبور کر رہا ہے اور وسیع تر سوالات اٹھاتا ہے کہ کیا قومی قوانین سرحد پار کی سرگرمیوں کو کنٹرول کر سکتے ہیں جو سرمائے اور اثر و رسوخ اور تسلسل کی تلاش سے چلتی ہیں۔ جیسے جیسے یہ سرمئی مارکیٹ پھیل رہی ہے ایسا لگتا ہے کہ اس حوالے سے تنازع جلد ختم نہیں ہو گا بلکہ طلب میں اضافے کے ساتھ اس تنازعے کے بڑھنے کا بھی امکان ہے۔ سیاست، معاشیات اور حیاتیات ایک ایسی دنیا میں آپس میں مل رہے ہیں جس کی کوئی واضح سرحدیں نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں