آسٹریلیا : بوندائی ساحل کے ہلاک شدگان کے احترام میں موم بتیاں جلائی گئیں
قومی پرچم سرنگوں رکھا گیا
آسٹریلیا کے ساحل بندیائی پر اس ہفتے کے شروع میں ایک بڑے فائرنگ حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے اعزاز کے لیے اتوار کے روز اعلان کردہ پروگرام کے تحت موم بتیاں جلائی گئیں۔ جبکہ ان کی ہلاکتوں کے غم میں قومی پرچم کو بھی سرنگوں رکھا گیا۔
فائرنگ کا یہ واقعہ بھارتی شہری اور اس کے بیٹے کی فائرنگ سے سامنے آیا جس میں ایک درجن سے زائد افراد ایک یہودی تہوار مناتے ہوئے ساحل پر ہلاک ہو گئے تھے۔
دونوں بھارتی دہشت گردوں میں سے ایک موقع پر ہلاک کر دیا گیا جبکہ ایک کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں ۔ تاکہ ان سے جڑے دیگر افراد کو بھی قانون کی گرفت میں لیا جاسکے۔
یاد رہے بھارت سے تعلق رکھنے والے شہری اور افراد اس سے پہلے بھی اس طرح کی واردتوں اور دہشت گردی کے الزمات کی زد میں آتے رہے ہیں۔ کینیڈا، امریکہ اور قطر تک میں بھارتی بحری فوج کے سابق افسروں کو جاسوسی کے الزام میں سزائے موت تک عدالت نے سنائی تھی۔
آئی فائیو ممالک جن میں آسٹریلیا بھی شامل ہے ۔ بھارت کے شہریوں اور اداروں کے ہاتھوں دوسرے ملکوں میں قتل کے واقعات کا ڈیٹا جمع کر رہے ہیں۔ اس واقعے نے بھارتیوں کے لیے مزید سوال کھڑے کردیے ہیں۔
آسٹریلیا انہی دو بھارتیوں کی فائرنگ سے ساحل پر خوشی منانے والے خاندانوں کی ہلاکت کے سلسلے میں اتوار کے روز موم بتیاں جلانے کا اہتمام کیا اور عام شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ مل کر موم بتیاں جلائیں۔
بہت سے آسٹریلوی شہریوں نے اپنے گھروں کی بالکونیوں سے یہ موم بتیاں جلا کر مقتولین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ جبکہ اسی روز آسٹریلیا کا پرچم سوگ منانے کے انداز میں سرکاری عمارات پر سرنگوں رہا اور اسے پوری اونچائی پر نہیں بلکہ آدھی اونچائی پر لہرایا گیا۔
آسٹریلیا میں بڑے دکھ کا ماحول ہے کہ تقریبا تیس سال بعد بھارتی شہری نے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو قتل کر کے سوگواری پیدا کردی۔ شام کے وقت چھ بج کر سنتالیس منٹ پر ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔
حکام نے اس طرح کے کسی اور واقعے کو روکنے کے لیے ملک میں سیکیورٹی حکام کے گشت اور نگرانی کو سخت کر دیا ہے اور پولیس کی نفری بڑھا دی یے۔ البتہ موم بتیاں جلانے کا سلسلہ بعد ازاں بھی جاری رہا۔
اس موقع پر آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر لکھ کر مقتولین سے اظہار یکجہتی کیا۔
آسٹریلوی وزیر اعظم پر دوہرا دباؤ ہے، ایک طرف اسرائیل کا دباؤ ہے اور دوسری جانب اسرائیل کا ہی اہم اتحادی بھارت ہے جس کے شہری نے اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر یہ کارروائی کی ہے۔ عوام بھی بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی حکومت پر تنقید کرتے ہیں کہ اس نے کافی سیکیورٹی فراہم نہیں کی تھی۔
ادھر پیر کے روز اسمبلی میں ایک ایسے بل پر بحث ہونے کا امکان ہے جس کے تحت آسٹریلیا میں کوئی بھی شخص دہشت گرد تنظیموں کا پرچم اٹھا کر نہیں چل سکے گا۔