وزیر نے ہوشیاری سے یورپ کی ایک جنگ کو مؤخر کیا اور بعد میں فتح حاصل کی
جرمنی کی مختلف ریاستیں ایک ساتھ آئیں اور متحد ہو کر ایک ملک بنیں،یہ سب اسی جنگ میں کامیابی کے بعد ہوا
انیسویں صدی ساٹھ کی دہائی میں یورپ میں ایسی جنگیں ہوئیں ،جو پروشیا نے لڑیں، پروشیا نے اتو فون بسمارک (Otto Von Bismarck) کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے جرمنی کے اتحاد کو حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
1864 میں پروشیا نے آسٹریا کے ساتھ مل کر ڈنمارک کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تاکہ شلیسوِگ-ہولسٹائن (Schleswig-Holstein) کے علاقے ڈنمارک سے حاصل کیے جا سکیں۔
اس کے دو سال بعد پروشیا نے آسٹریا کے خلاف ایک اور جنگ لڑی تاکہ جرمن ریاستوں پر آسٹریا کے تسلط کو ختم کیا جا سکے۔ فرانسیسی-پروسی جنگ کے شروع ہونے سے پہلے 1867 میں یورپ ایک اور بحران سے گزر رہا تھا جو تقریباً فرانس اور پروشیا کے درمیان جنگ کی صورت اختیار کر سکتا تھا، اس بحران کی وجہ لکسمبرگ کا مسئلہ تھا، جس پر فرانس نے قابو پانے کی بھرپور کوشش کی تھی۔
لکسمبرگ کے مستقبل کی وجہ سے بحران
نیپولین کی جنگوں کے اختتام اور 1815 میں ویانا کانفرنس کے انعقاد کے بعد یورپ ایک نازک استحکام کی جانب پہنچ گیا۔ لکسمبرگ کو ایک عظیم ڈچک کے طور پر درجہ دیا گیا، جو ذاتی طور پر ہالینڈ کے بادشاہ سے منسلک تھی۔اسی وقت لکسمبرگ جرمن کنفیڈریشن کا رکن بھی تھی ،جس پر پروشیا اور آسٹریا دونوں کا اثر و رسوخ تھا۔ اس کے علاوہ لکسمبرگ کی دارالحکومت میں ایک پروشین فوجی اڈہ بھی موجود تھا، جسے برلن نے یورپ میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اسٹریٹجک قرار دیا۔
بسمارک کے اقتدار میں آنے اور پروشیا کی عسکری پالیسی اپنانے کے بعد برلن نے ویانا کے خلاف جنگ لڑی، 1866 میں آسٹریائی شکست کے بعد جرمن کنفیڈریشن کا خاتمہ ہوا، جس سے لکسمبرگ کا مستقبل غیر واضح ہو گیا۔
پروشیا نے اپنے فوجی اڈے کو برقرار رکھا اور اسے ترک کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ فرانس نے نیپولین سوم کے دور میں لکسمبرگ کو ہالینڈ کے بادشاہ سے خریدنے کی کوشش کی۔
ہالینڈ کا بادشاہ اسے بیچنے کے لیے تیار تھا کیونکہ اس کے بھاری اخراجات نے ہالینڈ کے خزانے کو کمزور کر دیا تھا۔ نیپولین سوم نے لکسمبرگ کو خریدنے کی کوشش ،اس امید میں کی کہ وہ خطے میں توازن بحال کرے اور پروشیا کو وہاں سے نکال دے۔ نیزنیپولین سوم نے لکسمبرگ کی خریداری کو فرانس کے لیے ایک سیاسی فتح قرار دیا۔
پروشیا-فرانس مذاکرات
فرانس کے لکسمبرگ خریدنے کے اقدام نے یورپ میں کشیدگی پیدا کر دی، کیونکہ متعدد طاقتوں نے اس پیشکش کو مسترد کیا ، اس فہرست میں پروشیا سب سے آگے تھا۔
اس کے بعد فرانس اور پروشیا دونوں نے کسی ممکنہ تنازعہ کی تیاری کے طور پر جزوی فوجی تیاری کا اعلان کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں کی۔جنگ کی طرف دھکیلنے سے بچنے کے لیے مئی 1867 میں یورپ میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی تاکہ فرانس-پروشیا تنازعہ کو حل کیا جا سکے۔
اس دوران پروشین وزیر بسمارک نے سفارتی حل کو قبول کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کا ملک فرانس کے خلاف جنگ کے لیے تیار نہیں تھا، خصوصاً اس کے بعد کہ پروشیا ابھی حال ہی میں آسٹریا کے خلاف ایک مہلک جنگ سے نکل کر آیا تھا۔
دوسری طرف بسمارک اس بات سے بھی واقف تھے کہ فرانس جرمنی کے اتحاد کی راہ میں ایک رکاوٹ بنے گا۔ یہی وجہ تھی کہ بسمارک نے فرانس کے ساتھ لازمی تنازعہ کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے وقت جیتنے کا فیصلہ کیا تاکہ پروشین فوج کو مضبوط اور تیار کیا جا سکے۔ کانفرنس کے دوران بسمارک نے اپنے آپ کو اس طرح پیش کیا ،جیسے وہ فوجی جنگ کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔
لندن کا معاہدہ
مشاورت کے بعد 11 مئی 1867 کو لندن کا معاہدہ طے پایا، جس کے تحت فرانس نے لکسمبرگ خریدنے کی پیشکش واپس لے لی اور تقریباً 10 ملین سونے کے فرانک وصول کیے۔
اس کے بدلے لکسمبرگ جو اب تک ہالینڈ کے بادشاہ کے زیر انتظام تھی، ایک غیرجانبدار ریاست بن گئی اور یورپی طاقتوں نے وعدہ کیا کہ مستقبل میں کسی بھی تنازعے کی صورت میں لکسمبرگ کے غیرجانبدار رہنے کو یقینی بنائیں گے۔ دوسری جانب پروشیا نے لکسمبرگ میں اپنے فوجی اڈے کو منہدم کرنے اور اپنی تمام فوجیں واپس بلانے پر رضا مندی ظاہر کی۔