بعض علاقوں سے جنوبی کونسل کی فورسز نکل گئی ہیں: حضرموت قبائل اتحاد

صدارتی قیادت کونسل اور سعودی عرب خونریزی روکنے اور کشیدگی روکنے کے خواہشمند ہیں: ترجمان اتحاد کی العربیہ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

حضرموت قبائل اتحاد کے میڈیا مینیجر صبری بن مخاشن نے ’’ العربیہ ‘‘ کو دیے گئے خصوصی بیانات میں تصدیق کی ہے کہ عینی شاہدین نے بعض علاقوں سے جنوبی انتقالی کونسل کی افواج کے انخلاء کا مشاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے یمنی صدارتی قیادت کونسل اور سعودی عرب کی خونریزی روکنے اور کشیدگی کو روکنے کی خواہش سے بھی آگاہ کیا ہے۔ ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ جن علاقوں سے انتقالی فورسز پیچھے ہٹیں وہاں جشن شروع ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتقالی فورسز کے انخلاء کی صورت میں مذاکرات کا اصول قائم ہے۔

جنوبی انتقالی کونسل سے وابستہ افواج نے بدھ کے روز حضرموت میں اپنے ٹھکانوں کو خالی کرنا اور وہاں سے روانہ ہونا شروع کر دیا جس میں اسلحہ کی محدود نمائش دیکھی گئی۔ "العربیہ" کے ذرائع نے بتایا کہ حضرموت کے بعض مقامات سے انخلا کے دوران انتقالی کونسل کی فوجی گاڑیاں اور اہلکار دیکھے گئے۔ بعد ازاں حضرموت کے گورنر سالم الخنبشی نے کہا کہ ہم نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر انتقالی فورسز کو صوبے سے نکالنے کے لیے سخت محنت کی ہے۔

گورنر سالم الخنبشی نے اعلان کیا کہ حضرموت ایلیٹ فورس ان مقامات کا چارج سنبھالے گی جنہیں انتقالی فورسز چھوڑ کر جا رہی ہیں۔ حضرموت کے گورنر نے انتقالی فورسز میں شامل صوبے کے بیٹوں پر زور دیا کہ وہ اپنے ٹھکانے چھوڑ دیں۔ الخنبشی نے صوبے کے تمام دانش وروں اور معززین سے اتحاد اور صفوں کی یکجہتی کی اپیل کی۔

منگل کے روز امارات نے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی مستقل خواہش اور اس کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے احترام کی تصدیق کی۔ اس نے مملکت یا خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے کسی بھی عمل کو مسترد کر دیا۔ یو اے ای نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ اور تاریخی تعلقات خطے کے استحکام کا بنیادی ستون ہیں۔ ریاض کے ساتھ مکمل ہم آہنگی چاہتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کی جانب سے اس تصدیق کے بعد کہ یمن میں ابوظبی کے اقدامات انتہائی خطرناک ہیں، ایک بیان میں کہا کہ مشرقی یمن کے صوبوں حضرموت اور مہرہ میں واقعات کے آغاز سے ہی اس کا موقف صورتحال کو کنٹرول کرنے، امن کے راستوں کی حمایت کرنے اور سعودی عرب کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے سلامتی، استحکام اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے والی مفاہمت تک پہنچنے کی طرف رہا ہے۔

اس سے قبل ریاض نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں جنوبی انتقالی کونسل کی افواج پر متحدہ عرب امارات کے دباؤ پر افسوس کا اظہار کیا گیا تھا۔ ریاض نے وضاحت کی تھی کہ اس دباؤ نے کونسل کی افواج کو حضرموت اور مہرہ کے صوبوں میں مملکت کی جنوبی سرحدوں پر فوجی آپریشن کرنے پر مجبور کیا۔ اس نے اسے مملکت کی قومی سلامتی اور یمن اور خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔

سعودی عرب نے یہ بھی کہا کہ متحدہ عرب امارات کے اقدامات انتہائی خطرناک ہیں۔ اس نے واضح کیا کہ یہ اقدامات یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد کے اصولوں کے مطابق نہیں ہیں اور یمن کی سلامتی اور استحکام کے لیے اس کی کوششوں کے مفاد میں نہیں ہیں۔ مملکت نے زور دیا کہ امارات یمن کی اس درخواست کا جواب دے جس میں اس کی افواج کے 24 گھنٹوں کے اندر نکلنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس نے یمن کے اندر کسی بھی فریق کو کسی بھی قسم کی فوجی یا مالی امداد بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

اسی تناظر میں اتحادی افواج کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ ہفتہ اور اتوار کے روز فجیرہ بندرگاہ سے آنے والے دو بحری جہاز جوائنٹ فورسز کمانڈ سے سرکاری اجازت نامے حاصل کیے بغیر مکلا بندرگاہ میں داخل ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں بحری جہازوں کے عملے نے اپنے ٹریکنگ سسٹم بند کر دیے تھے۔ ان بحری جہازوں نے یمن کے مشرقی صوبوں حضرموت اور مہرہ میں جنوبی انتقالی کونسل کی افواج کی حمایت کے لیے بڑی مقدار میں اسلحہ اور جنگی گاڑیاں اتاریں، جس کا مقصد تنازع کو ہوا دینا تھا۔ سعودی پریس ایجنسی "واسپ" کے مطابق اس اقدام کو امن قائم کرنے اور پرامن حل تک پہنچنے کی کوششوں کی صریح خلاف ورزی اور 2015 کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2216 کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

میجر جنرل المالکی نے یہ بھی واضح کیا کہ یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کی درخواست پر اتحادی افواج نے حضرموت اور مہرہ کے صوبوں میں شہریوں کے تحفظ کے لیے فوجی اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے اس اسلحے کی سنگینی اور اس کی کشیدگی کی طرف اشارہ کیا جو سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ اتحادی فضائیہ نے ایک محدود فوجی آپریشن کیا جس میں مکلا بندرگاہ پر جہازوں سے اتارے گئے اسلحے اور جنگی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا جس کی دستاویزی تصدیق کی گئی تھی۔ یہ آپریشن بین الاقوامی انسانی قانون اور اس کے روایتی اصولوں کے مطابق کیا گیا تاکہ کسی بھی قسم کے ضمنی نقصان کے نہ ہونے کو یقینی بنایا جا سکے۔

یمنی صدارتی قیادت کونسل نے ریاض کے ان موقف پر مثبت ردعمل دیا جن میں استحکام قائم کرنے اور یمن کی سلامتی کے عزم پر زور دیا گیا تھا۔ یمن میں صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کہا کہ یمن نئے محاذ کھولنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہم سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کی حمایت سے مضبوط ہیں۔

یاد رہے یمن نے حال ہی میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔ اس نے اماراتی افواج سے یمنی علاقوں سے نکلنے کا مطالبہ کیا۔ یمنی حکومت نے محدود فضائی حملے کے بعد قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحادی افواج کے اقدامات کا خیرمقدم کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں