پاکستان نے جمعرات کو ایک بار پھر سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی کے لیے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان یمن کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مکمل حمایت اور پائیدار امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
’پاکستان یمن میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے کشیدگی میں کمی کی علاقائی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے۔ ’پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور مملکت کی سلامتی کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔‘
دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان یمن کے مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر مبنی عمل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور امید کرتا ہے کہ یمن کے عوام اور علاقائی طاقتیں مل کر ایک جامع اور دیرپا حل کی جانب پیش رفت کریں گی، تاکہ علاقائی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن میں صورتحال معمول پر لانے کیلئے علاقائی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے، وزیر اعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات اورتعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا سعودی عرب کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا، متحدہ عرب امارات کے صدر نے حال ہی میں پاکستان کا سرکاری دورہ کیا، وزیر اعظم اور صدر یو اے ای کی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور تعاون پر بات چیت ہوئی۔
افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ افغان علما کی جانب سے جاری کیا گیا فتویٰ اور افغان قیادت کے حالیہ بیانات مثبت پیش رفت ہیں، تاہم پاکستان اب بھی افغانستان کی جانب سے عملی ضمانتوں کا انتظار کر رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ افغان سرزمین کسی بھی صورت پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے لیے انسانی امداد کا ایک قافلہ بھیجا گیا تھا، تاہم افغان حکام نے وزیر اعظم کے اعلان کردہ اس امدادی قافلے کو روک لیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی اس پالیسی کا حصہ ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ وزارت خارجہ مکمل آزادی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد علاقائی امن، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔