حیرت انگیز تھری ڈی اٹلس کی ایجاز نے ہر عمارت بشمول آپ کا گھر کی تلاش ممکن بنا دی
عالمی عمارتوں کا اٹلس کسی بھی عمارت کو اس کے پتے کے ذریعے دریافت کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے
ایڈنبرگ کے تاریخی مکانات سے لے کر شنگھائی کی فلک بوس عمارتوں تک، دنیا کی اب ہر عمارت تک صرف ایک کلک میں رسائی ممکن ہے۔''عالمی عمارتوں کے اٹلس'' نامی نقشے میں ماضی کے سب سے بڑے ڈیٹا سیٹ کے مقابلے میں ایک ارب سے زائد اضافی مکانات شامل کیے گئے ہیں۔ عالمی عمارتوں کا اٹلس جرمنی کی میونخ ٹیکنیکل یونیورسٹی (TUM) کے محققین نے بنایا، جس میں سیٹلائٹ ڈیٹا کے بڑے ذخیرے کا استعمال کیا گیا، جیسا کہ برطانوی اخبار ڈیلی میل نے رپورٹ کیا۔
گم شدہ عمارتوں کی پیش گوئی
محققین نے 2019 میں سیٹلائٹ کے ذریعے لی گئی تقریباً 800000 تصاویر کو مصنوعی ذہانت (AI) کے الگورتھم کے ساتھ استعمال کیا تاکہ گم شدہ عمارتوں کا حجم قریب کی عمارتوں کی اونچائی کی بنیاد پر پیش گوئی کیا جا سکے۔
اسی حوالے سے مطالعے کے مرکزی محقق پروفیسر شیاوشیانگ چو نے کہا: تھری ڈی عمارتوں کی معلومات شہری پھیلاؤ اور غربت کے بارے میں ٹو ڈائیمنشنل روایتی نقشوں کے مقابلے میں زیادہ درست تصویر فراہم کرتی ہیں۔ تھری ڈی ماڈلز کی بدولت ہر عمارت کی جگہ اور اس کا حجم دیکھا جا سکتا ہے، جس سے رہائشی حالات کو سمجھنے میں بہت زیادہ وضاحت حاصل ہوتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کوئی بھی شخص اپنے گھر کو نقشے پر تلاش کر سکتا ہے یا دنیا کے کسی بھی مقام کو صرف نقشے کے اوپر موجود ایڈریس ان پٹ بار میں تلاش کر کے دریافت کر سکتا ہے۔
بے مثال درستگی
یہ ڈیٹا بیس دنیا کے کسی بھی علاقے کا تھری ڈی ماڈل پیش کرتا ہے، جو سیٹلائٹ کے ذریعے حاصل شدہ معلومات پر مبنی ہے۔ تھری ڈی ماڈلز خصوصاً شہری علاقوں میں انتہائی درست ہیں، محققین کے مطابق ان کی درستگی مشابہ ڈیٹا بیسز کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔
محققین نے یہ بھی بتایا کہ ان کی ویب سائٹ کو چند دن قبل لانچ کیے جانے کے بعد 280000 سے زائد ویوز مل چکے ہیں اور یہ غیر متوقع مقبولیت اس بات سے کہیں زیادہ ہے، جس کے لیے یہ سائٹ بنائی گئی تھی۔ اسی وجہ سے بعض اوقات نقشہ لوڈ ہونے میں سست روی ہو سکتی ہے۔
اہم سائنسی افادیت
یہ تفصیلی نقشہ نہ صرف دریافت کرنے کے لیے دلچسپ ہے بلکہ اس میں ایک اہم سائنسی کردار بھی ہے۔ ماضی میں دنیا کی عمارتوں کے تفصیلی نقشے بنانا انتہائی مشکل کام تھا، کیونکہ اس کے لیے زمین کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی سیٹلائٹس اور لیزر اسکیننگ کی ضرورت ہوتی تھی اور پورے سیارے کی اعلیٰ درستگی والے اسکیننگ کے ذریعے کوریج حاصل کرنا لازمی تھا۔
محققین نے ایک حل اپنایا جس میں لیزر اسکیننگ کے ڈیٹا کو مصنوعی ذہانت (AI) کے ساتھ ملا کر نقشے میں موجود خالی جگہوں کو پر کیا گیا، اس کا نتیجہ ایک تفصیلی عالمی نقشہ نکلا، جسے ترقی آفات کی تیاری اور نئی شہروں کے ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایشیا کی سبقت
ان کے ڈیٹا سیٹ کے تجزیے کے مطابق ایشیا میں 1.22 ارب عمارتیں ہیں، جو دنیا کی مجموعی عمارتوں کے تقریباً نصف کے برابر ہیں۔
اس کے بعد افریقہ میں تقریباً 540 ملین عمارتیں ہیں، جو یورپ کی 403 ملین عمارتوں سے زیادہ ہیں۔جبکہ شمالی اور جنوبی امریکہ میں عمارتوں کی تعداد کہیں کم ہے، بالترتیب 295 ملین اور 264 ملین عمارتیں ہیں۔ اوقیانوس میں عمارتوں کی تعداد صرف 14 ملین تک محدود ہے۔
معاشی اور سماجی پیمائشیں
اس ڈیٹا کے استعمال سے محققین نے سماجی و اقتصادی ترقی اور فی فرد عمارتوں کے حجم کو ماپنے کا ایک نیا طریقہ ایجاد کیا۔ بنیادی خیال یہ ہے کہ جتنی زیادہ جگہ ہر فرد کے لیے دستیاب ہوگی، اتنی زیادہ اس بات کی امکانیت ہوگی کہ ملک میں رہائشی معیار بہتر ہو۔
فن لینڈ سب سے خوشحال
مثال کے طور پر فن لینڈ یورپ کے ان ممالک کی فہرست میں سرِ فہرست ہے ،جہاں فی فرد عمارتوں کا حجم سب سے زیادہ ہے، جو 3900 مکعب میٹر سے زائد ہے اور اسے باقاعدگی سے یورپ کا سب سے خوشحال ملک قرار دیا جاتا ہے۔اس کے برعکس یونان جسے دہائیوں کے اقتصادی زوال کا سامنا رہا،اس میں فی فرد عمارتوں کا حجم چھ گنا کم ہے۔
محققین امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں یہ ڈیٹا ان علاقوں میں مزید رہائشی مکانات یا عوامی سہولیات کی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرے گا جہاں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آفات سے بچاؤ
اسی دوران یہ ماڈل آفات سے بچاؤ کے شعبے میں انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ ان علاقوں کی نشاندہی کرتا ہے ،جو سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ مثال کے طور پر جرمنی کا سینٹر فار اسپیس ریسرچ اس وقت یہ مطالعہ کر رہا ہے کہ کس طرح عالمی عمارتوں کا اٹلس (Global Building Atlas) کو دنیا بھر میں آفات کے دوران ریلیف اور امدادی سرگرمیوں کی حمایت میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔