جنوب یمن کی سیاسی قوتوں کا زبیدی کے یکطرفہ اقدامات کو مسترد کرنے کا اعلان
بیان میں صدر رشاد العلیمی سے ریاض میں جامع مکالمے کے انعقاد کا مطالبہ
یمن کے جنوبی صوبوں کی سیاسی جماعتوں اور دھڑوں نے جمعہ کی شام جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان سیاسی قوتوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات جنوبی مسئلے کے حوالے سے یکطرفہ نوعیت کے ہیں۔
یکطرفہ فیصلے
سیاسی قوتوں نے اپنے بیان میں جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی کی جانب سے ایسے یک طرفہ فیصلے کرنے کی شدید مذمت کی جو جنوبی مسئلے کے بنیادی جوہر کو متاثر کرتے ہیں۔ بیان کے مطابق الزبیدی نے خود کو جنوب کا نمائندہ اور ترجمان مقرر کر لیا جبکہ متعدد جنوبی سیاسی قوتوں اور شخصیات کو نظرانداز کر دیا گیا۔
المكونات السياسية للمحافظات الجنوبية: نرفض إجراءات عيدروس الزبيدي الأحادية#اليمن #قناة_العربية pic.twitter.com/R3dIlIEHxi
— العربية (@AlArabiya) January 2, 2026
بیان میں مزید کہا گیا کہ عیدروس الزبیدی نے بیرونی فریقوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے یک طرفہ اقدامات کیے جن کے نتیجے میں منصفانہ جنوبی مسئلے کو شدید نقصان پہنچا، جنوبی صفوں کے اتحاد کو کمزور کیا گیا اور جنوب اور اس کے عوام نے جو کامیابیاں حاصل کی تھیں انہیں بھی متاثر کیا گیا۔
سیاسی جماعتوں نے عیدروس الزبیدی کے ان تمام اقدامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے صدر قیادت کونسل رشاد العلیمی سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام جنوبی سیاسی قوتوں اور شخصیات پر مشتمل ایک جامع کل جماعتی کانفرنس بلائیں تاکہ مکالمے کی میز پر بیٹھ کر جنوبی مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے ایک ہمہ گیر تصور تیار کیا جا سکے جو جنوبی عوام کی جائز خواہشات کی عکاسی کرے۔
بیان میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ رشاد العلیمی سعودی عرب سے رابطہ کریں تاکہ اس کانفرنس کی میزبانی اور سرپرستی ریاض میں کی جائے۔ اس عمل میں جنوبی مسئلے کے تاریخی، سیاسی اور سماجی پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے اور کسی بھی جنوبی دھڑے یا قیادت کو نظرانداز یا حاشیے پر نہ ڈالا جائے۔ بیان کے مطابق اس سے مسئلے کے غلط استعمال یا اجارہ داری کو روکا جا سکے گا اور جنوبی صوبوں کے تمام عوام کے لیے پُرامن بقائے باہمی، سکیورٹی، استحکام اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
بیان پر دستخط کرنے والوں میں صدارتی قیادت کونسل کے رکن عبداللہ العلیمی ، وزیراعظم سالم صالح بن بریک، مجلس شوریٰ کے چیئرمین احمد عبید بن دغر، صدارتی مشیر یاسین عمر مکاوی ، احمد عوض بن مبارک ، عمر العمودی، محمد صالح بن عدیو، بدر باسلمہ، ڈائریکٹر ایوان صدر یحییٰ محمد الشعیبی، ڈپٹی اسپیکر محمد علی الشدادی، مشاورتی کمیٹی کےنائب صدر جج اکرم العامری ،ڈپٹی ڈائریکٹر ایوان صدراحمد صالح العیسی، وزیر خارجہ و امورِ مہاجرین شائع محسن الزندانی، وزیر داخلہ میجر جنرل ابراہیم حیدان، وزیر نوجوانان و کھیل نائف صالح البکری، وزیر تعلیم طارق العکبری ، گورنر صوبہ حضرموت سالم الخنبشی، گورنر صوبہ المہرہ محمد علی یاسر، سابق وزیر عبدالسلام باعبود، سابق وزیر عبداللہ لملس ، سابق وزیر محمد عبدالمجید قباطی، سابق وزیر حسین باسلمہ، سابق وزیر ناصر باعوم، سابق وزیر احمد عطیہ، سابق وزیر نہال العولقی، سابق سیکریٹری جنرل وزارتِ عظمیٰ حسین منصور ، سابق وزیر عبداللہ علی علیوہ، سابق وزیر اوس العود، سابق وزیر فہد کافین ، سابق وزیرعلوی بافقیہ، سابق گورنر سقطری رمزی محروس، سماجی شخصیت علی منصور رشید، سفیر میرفت مجلی، مجلسِ نمائندگان میں حضرموت بلاک کے سربراہ صالح العامری، رکن مجلسِ نمائندگان انصاف علی مایو، سماجی شخصیت عوض عارف الزوکا، حضرموت میں کانفرنس پارٹی کے سربراہ محمد عبداللہ مہیوبی، وزارتِ نوجوانان و کھیل کے اور ڈپٹی سیکرٹری شفیع محمد العبد شامل ہیں.