ایک افریقی ملک میں ایک سال کی پیدائشیں پورے یورپ سے زیادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

آبادی سے متعلق اعداد و شمار دنیا میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کو بے نقاب کرتے ہیں، مگر یہ تبدیلیاں خاموش ہوتی ہیںنہ جنگوں کی طرح شور مچاتی ہیں اور نہ ہی مالی بحرانوں جیسی فوری توجہ حاصل کرتی ہیں، تاہم کرۂ ارض کے مستقبل پر ان کے اثرات کہیں زیادہ گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔

ادارے ''آور ورلڈ اِن ڈیٹا'' کے مطابق2023 کے دوران ایک افریقی ملک میں ہونے والی پیدائشوں کی تعداد پورے یورپی براعظم اور روس میں ہونے والی مجموعی پیدائشوں سے بھی زیادہ رہی۔

یہ نئی آبادیاتی حقیقت شمالی دنیا میں زوال اور عالمی جنوب میں خاموش مگر تیز رفتار ابھار کی کہانی سمیٹتی ہے۔صرف ایک ہی سال میں نائجیریا میں تقریباً 75 لاکھ بچوں کی پیدائش ہوئی، جبکہ اسی مدت میں یورپ اور روس میں مجموعی طور پر پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد 63 لاکھ سے زیادہ نہ تھی۔ بظاہر یہ فرق بہت بڑا محسوس نہیں ہوتا، لیکن آبادی اور معیشت کی زبان میں یہ ایک تاریخی موڑ ہے، جو آبادی میں اضافے کے دو بالکل متضاد راستوں کی عکاسی کرتا ہے۔

یورپ جو دہائیوں تک عالمی معاشی اور سیاسی طاقت کا مرکز رہا، آج ایک خاموش آبادیاتی بحران سے دوچار ہے۔ بیشتر یورپی ممالک میں شرحِ پیدائش آبادی کے تسلسل کے لیے درکار معیار (2اعشاریہ1 بچے فی خاتون) سے کہیں کم ہو چکی ہے۔ یورپی یونین میں صورتحال مزید سنگین ہے، جہاں یہ شرح گھٹ کر محض 1اعشاریہ38 بچے فی خاتون رہ گئی ہے، جو کہ تاریخی طور پر کم ترین سطح ہے، جیسا کہ یورواسٹیٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔

رہائش اور روزمرہ زندگی کے بڑھتے اخراجات، شادی اور اولاد کے فیصلے میں تاخیر کام کا دباؤ اور نئی نسل کی ترجیحات میں تبدیلی،یہ سب عوامل شرحِ پیدائش میں کمی کا باعث بن رہے ہیں۔

نتیجتاً یورپ کو ایک تشویشناک معاشی حقیقت کا سامنا ہے، جہاں معاشرے تیزی سے بوڑھے ہو رہے ہیں، افرادی قوت میں کمی آ رہی ہے اور پنشن و صحت کے نظام پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

روس جسے اکثر آبادیاتی لحاظ سے یورپ کے ساتھ شمار کیا جاتا ہے، وہ بھی اس رجحان سے مستثنیٰ نہیں۔ سرکاری حوصلہ افزائی کے باوجود وہاں بھی پیدائشوں میں کمی اور منفی آبادیاتی توازن برقرار ہے۔

نائجیریا… نوجوان آبادی کے ساتھ آبادیاتی دھماکہ

اس کے برعکس نائجیریا افریقہ کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور دنیا میں شرحِ پیدائش کے بلند ترین تناسب رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ یہاں اوسطاً ہر خاتون کے ہاں 4اعشاریہ5 سے زائد بچے پیدا ہو رہے ہیں، جو بھارت کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ نوجوان اور وسیع آبادی کی بنیاد پر نائجیریا عالمی سطح پر ’’پیدائشوں کے بڑے مراکز‘‘ میں تبدیل ہو چکا ہے۔

اگرچہ ایک پہلو سے یہ اعداد و شمار مثبت دکھائی دیتے ہیں، تاہم افریقہ کے اس گنجان آباد ملک کو سنگین چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ تعلیم، تولیدی صحت اور خواتین کی لیبر مارکیٹ میں شمولیت کی شرح تاحال ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کم ہے، جس کے باعث ہر گزرتے سال کے ساتھ بچوں کی پیدائش کی تعداد مسلسل بلند رہتی ہے۔یہ آبادیاتی اضافہ دو متضاد پہلو رکھتا ہے۔

ایک جانب اگر تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کر کے اس نوجوان آبادی سے درست فائدہ اٹھایا جائے تو یہ ایک بڑی معاشی صلاحیت میں تبدیل ہو سکتا ہے، جسے ’’آبادیاتی منافع‘‘ کہا جاتا ہے۔ دوسری جانب اگر ترقیاتی پالیسیاں لاکھوں نئے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں ناکام رہیں تو یہی اضافہ ایک بھاری معاشی بوجھ بن سکتا ہے۔

بین الاقوامی اندازوں کے مطابق نائجیریا رواں صدی کے وسط تک بھارت اور چین کے بعد آبادی کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک بننے کی راہ پر ہے،یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ آبادی اور اس کے ساتھ معاشی طاقت کا مرکز بتدریج جنوب کی جانب منتقل ہو رہا ہے، یورپ سے دور جو طویل عرصے تک عالمی منظرنامے پر غالب رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں