امریکہ نے سعودی عرب کو 9 ارب ڈالر مالیت کے پیٹریاٹ سسٹمز کی فروخت کی منظوری کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکہ محکمہ دفاع پینٹاگان نے کل جمعہ کی شام ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب کو میزائلوں کی فروخت کے اس سودے سے ایک اہم اتحادی کی سکیورٹی مزید مستحکم ہوگی۔
دوسری جانب محکمہ خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ مملکت کو اسلحے کی فروخت میں 730 پیٹریاٹ میزائل اور متعلقہ ساز و سامان شامل ہے۔ بیان کے مطابق یہ ڈیل امریکہ کی قومی سلامتی اور نیٹو سے باہر ایک ایسے اہم اتحادی کی سکیورٹی کی حمایت کرتا ہے جو خلیجی خطے میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے ایک قوت کی حیثیت رکھتا ہے۔ مزید برآں یہ بھی اشارہ دیا گیا کہ یہ بہتر صلاحیت سعودی عرب کی بری افواج، امریکہ اور مقامی اتحادیوں کا تحفظ کرے گی اور خطے کے مربوط فضائی اور میزائل دفاعی نظام میں مملکت کے کردار کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گی۔
Met with researchers from American think tanks and organizations to discuss the importance of Saudi-US strategic relations and efforts to promote global peace and security.
— Khalid bin Salman خالد بن سلمان (@kbsalsaud) January 30, 2026
یہ اعلان سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز کے دورہ واشنگٹن کے موقع پر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے گذشتہ جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں امریکی وزیر خارجہ اور نامزد قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں دوست ممالک کے درمیان سٹریٹجک تعلقات، سعودیہ ۔ امریکہ شراکت داری کے افق اور اسے مضبوط بنانے کے طریقوں اور ترقی کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ خطے اور دنیا میں امن کے قیام کی کوششوں پر بھی غور کیا گیا۔
شہزادہ خالد بن سلمان نے ہفتہ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے امریکی تھنک ٹینکس اور تنظیموں کے محققین سے ملاقات کی ہے تاکہ سعودی امریکہ سٹریٹجک تعلقات کی اہمیت اور عالمی امن و سکیورٹی کو فروغ دینے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔