اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹیریس نے بدھ کے روز امریکہ اور روس پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر ایک نئے جوہری معاہدے پر دستخط کریں کیونکہ موجودہ معاہدہ ختم ہونے والا ہے۔ اور یہ معاملہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین ہو گا۔
نیو سٹارٹ معاہدہ جمعرات کو ختم ہو رہا ہے جس سے ماسکو اور واشنگٹن دونوں کو اپنے جوہری ہتھیاروں پر پابندیوں سے باضابطہ رہائی مل جائے گی۔
گوٹیریس نے ایک بیان میں کہا، "نصف صدی سے زائد عرصے میں پہلی بار ہمیں ایک ایسی دنیا کا سامنا ہے جہاں روسی فیڈریشن اور امریکہ کے تزویری جوہری ہتھیاروں پر کوئی پابندی نہیں ہو گی۔"
انہوں نے مزید کہا کہ نیو سٹارٹ اور ہتھیاروں پر کنٹرول کے دیگر معاہدوں سے "تمام لوگوں کی سلامتی میں زبردست بہتری آئی ہے۔"
انہوں نے مزید تفصیلات بتائے بغیر کہا، "کئی عشروں تک کامیابی سے جاری رہنے والے معاہدے کی تحلیل اس سے بدتر وقت پر نہیں آسکتی -- جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ عشروں میں سب سے زیادہ ہے۔"
گوتریس نے واشنگٹن اور ماسکو پر زور دیا کہ وہ "بغیر کسی تاخیر کے مذاکرات کی طرف واپس آئیں اور مستقبل کے فریم ورک پر اتفاق کریں۔"
روس اور امریکہ مل کر دنیا کے 80 فیصد سے زیادہ جوہری ہتھیاروں پر قابض ہیں لیکن ہتھیاروں کے معاہدے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔
پہلی بار 2010 میں دستخط کردہ نیو سٹارٹ معاہدے نے دونوں طرف کے جوہری ہتھیاروں کو 1,550 تعینات وار ہیڈز تک محدود کر دیا تھا جو 2002 میں طے کردہ سابقہ حد سے تقریباً 30 فیصد کم ہے۔
اس کے تحت ہر فریق کو دوسرے کے جوہری ہتھیاروں کا سائٹ پر معائنہ کرنے کی بھی اجازت تھی اگرچہ یہ کووڈ-19 وبائی امراض کے دوران معطل کر دیئے گئے اور اس کے بعد سے دوبارہ شروع نہیں ہوئے ہیں۔