کلنٹن خاندان اور امریکی ایوان نمائندگان کی نگران و حکومتی اصلاحات کمیٹی کے درمیان محاذ آرائی شدت کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے مطالبہ کیا ہے کہ "جیفری ایپسٹین" کیس کے بارے میں ان کی مقررہ گواہی کو عوام کے سامنے ایک کھلی سماعت میں تبدیل کیا جائے۔ کئی مہینوں کے تعطل کے بعد سابق صدر بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ ہیلری نے رواں ماہ کی 26 اور 27 تاریخ کو گواہی دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ امریکی اخبار "دی ہل" کے مطابق یہ رضامندی اس وقت سامنے آئی جب کمیٹی کے سربراہ ریپبلکن جیمز کومر نے ایوان نمائندگان میں ووٹنگ کے ذریعے جوڑے پر توہین کانگریس کا الزام لگانے کی کارروائی کرنے کا عندیہ دیا۔
تاریخوں پر اتفاق کے باوجود کلنٹن خاندان کے وکلاء نے رکن پارلیمنٹ کومر پر آخری لمحے کی شرائط شامل کرنے کا الزام لگایا جس میں گواہی کی ویڈیو ریکارڈنگ لازمی قرار دی گئی تھی۔ اس پر کلنٹن خاندان نے مطالبہ کیا کہ یہ اجلاس بند کمرے کی بجائے مکمل طور پر عوامی ہونا چاہیے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر پوسٹس کے ایک سلسلے میں ہیلری کلنٹن نے کمیٹی کے تحقیقاتی طریقہ کار پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ چھ ماہ سے ہم نگران کمیٹی کے ریپبلکنز کے ساتھ نیک نیتی سے تعاون کر رہے ہیں، ہم نے حلف کے تحت انہیں وہ سب بتایا جو ہم جانتے ہیں لیکن انہوں نے اس سب کو نظر انداز کیا اور احتساب کو محض توجہ بھٹکانے کی ایک مشق میں بدل دیا۔
انہوں نے کومر کو براہ راست چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ یہ لڑائی چاہتے ہیں تو آئیے اسے عوامی سطح پر لڑتے ہیں۔ آپ شفافیت کی بات کرنا پسند کرتے ہیں اور کیمروں کے سامنے عوامی سماعت سے زیادہ شفاف کچھ نہیں ہے۔ ہم وہاں موجود ہوں گے۔ دوسری جانب جیمز کومر نے اس درخواست کو مسترد کر دیا اور اصرار کیا کہ جوڑے کو ریکارڈ شدہ گواہی کے لیے طلب کیا گیا تھا نہ کہ عوامی سماعت کے لیے۔
"نیوز میکس" چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کومر نے وضاحت کی کہ ریکارڈ شدہ گواہیاں عوامی سماعتوں کے مقابلے میں زیادہ ٹھوس ہوتی ہیں جنہیں انہوں نے ارکان کے درمیان تکرار کی وجہ سے "تفریحی لیکن مواد سے خالی" قرار دیا۔ کومر نے مزید کہا کہ کلنٹن خاندان کے لیے بعض سوالات کے جواب دینے سے انکار کرنا یا "پانچویں ترمیم" کا سہارا لینا اب مشکل ہو جائے گا کیونکہ وہ امریکی عوام کے سامنے علانیہ گواہی اور شفافیت کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
یہ تحقیقات نگران کمیٹی کی ان کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد جنسی جرائم کے مرتکب جیفری ایپسٹین کے نیٹ ورک کے بارے میں حقائق معلوم کرنا ہے۔ واضح رہے کلنٹن خاندان نے ایپسٹین کے جرائم کے بارے میں کسی بھی علم کی سختی سے تردید کی ہے اور ایپسٹین کے کسی بھی شکار نے جوڑے پر کسی غلط کام کا علانیہ الزام نہیں لگایا ہے۔