مسقط میں امریکی اور ایرانی وفود کے مثبت جوہری مذاکرات کے درمیان اچانک سب کی توجہ امریکی اعلیٰ فوجی کمانڈر پر مرکوز ہو گئی۔کیا یہ سفارتی کھیل ہے یا امریکہ خطے میں طاقت کا واضح پیغام دے رہا ہے؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے فوجی رہنماؤں کو اعلیٰ سطح کے سفارتی مشن پر بھیجنے کا فیصلہ کیا، اور پہلی بار امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے کمانڈر ایڈمرل براد کوپر کو امریکا اور ایران کے بالواسطہ مذاکرات میں بھیجا۔
کوپر نے اپنی فوجی وردی پہن کر شرکت کی، جو خطے میں امریکی عسکری موجودگی کی بڑھتی ہوئی تیاری کی علامت سمجھی گئی۔
تجزیہ کاروں کی رائے
ایلیسا ایورز جنہوں نے سابق صدر جارج بش جونیئر اور باراک اوباما کی حکومت میں قومی سلامتی کے عہدے سنبھالے، نے کہا کہ فوجی رہنماؤں کو سفارتی مشن پر تعینات کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے پیشہ ور سفارت کاروں کی اہمیت کم کر دی اور خارجہ پالیسی کے چیلنجز کے حل کے لیے زیادہ انحصار فوج پر کیا۔
انہوں نے کہا:عموماً کامیاب سفارت کاری کے لیے وقت، سرمایہ کاری اور محنت درکار ہوتی ہے اور ہر مسئلہ طاقت سے حل نہیں ہوتا۔
ایلیٹ کوہن، جو جارج بش جونیئر کی وزارت خارجہ میں مشیر رہ چکے ہیں، نے یاد دلایا کہ سرد جنگ کے دوران امریکی جنرلز نے بھی سوویت یونین کے ساتھ ہتھیاروں کی حد بندی پر مذاکرات میں حصہ لیا تھا۔
ان کا کہنا تھا:صدر اکثر غیر معمولی شخصیات کو مبعوث کے طور پر بھیجتے ہیں، اگر وہ ان پر اعتماد کرتے ہوں اور پیغام مؤثر انداز میں پہنچا سکتے ہوں۔
اعلیٰ فوجی شرکت کا مقصد
مایکل اوہانلون، جو بروکنگز انسٹی ٹیوٹ میں دفاع اور خارجہ پالیسی کے امور کے ماہر ہیں، کے مطابق کوپر کی شرکت کا مقصد پختگی کا مظاہرہ اور بازداری کا پیغام دینا تھا۔ انہوں نے کہا:سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کو شامل کرنا غیر معمولی قدم ہے اور یہ زیادہ تر ایک پیغام پہنچانے کے لیے ہے نہ کہ مذاکراتی ٹیم کے وزن میں اضافہ کرنے کے لیے۔
مایکل سنگ، جو بش جونیئر کے دور میں قومی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کے امور کے ڈائریکٹر تھے، نے کہا کہ کوپر کی موجودگی زیادہ تر اس کی مہارت اور تجربے سے جڑی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ وِٹکوف اور کشنر عام مذاکرات کار ہیں، جبکہ کوپر خطے کا ماہر ہے اور اس کے پاس فوجی ماہرین تک رسائی ہے جو ایران کے جوہری پروگرام پر ممکنہ مفاہمت کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
کوپر نے جون میں امریکی جوہری حملوں کے فوری بعد ایران کی جوہری اور عسکری صلاحیتوں پر تفصیل سے بات کی تھی۔
مذاکرات کی نوعیت
امریکی وفد کی قیادت اسٹیو وِٹکوف نے کی جو صدر کے مشرق وسطیٰ کے خاص ایلچی ہیں، ان کے ہمراہ صدر کے داماد جارڈ کشنر بھی موجود تھےجبکہ ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے تھے۔ دونوں وفود نے بالواسطہ مذاکرات کو عمان میں مثبت قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات "بہت اچھے" تھے اور مزید اجلاس آئندہ ہفتے متوقع ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام پر معاہدے تک نہ پہنچا، تو "نتائج سنگین ہوں گے"۔
عراقچی نے بھی مذاکرات کے ماحول کو "انتہائی مثبت" اور "اچھی شروعات" قرار دیا، تاہم یہ بھی کہا کہ اعتماد سازی کا راستہ ابھی طویل ہے۔
انہوں نے کہا:ہم ایسے معاہدے کے لیے تیار ہیں جو یورینیم کی افزودگی کی شرح کم کر کے اطمینان فراہم کرے۔
عراقچی نے زور دیا کہ یورینیم کی افزودگی ایران کا ناقابل تنسیخ حق ہے اور اسے جاری رہنا چاہیے۔ ایران یورینیم کو بیرون ملک منتقل کرنے کے بھی مخالف ہے، جو ماضی میں متعدد بار مذاکرات میں زیر غور آیا۔
ٹرمپ نے بارہا یورینیم کی افزودگی پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا۔ مغربی ممالک اور اسرائیل ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کا الزام لگاتے ہیں، جسے تہران مسترد کرتا ہے اور صرف پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے حق کا دفاع کرتا ہے۔یاد رہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ سے قبل ایران 60 فیصد یورینیم افزودہ کر رہا تھا، جو ہتھیار بنانے کی حد کے قریب ہے۔