ایک امریکی عہدے دار کا خیال ہے کہ جنیوا مذاکرات بظاہر بے سود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اس بات کا منتظر ہے کہ ایران کیا جواب لے کر آتا ہے اور "axios" ویب سائٹ کے مطابق ان کا ماننا ہے کہ گیند اب ایران کے کورٹ میں ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو مہینے کے آخر تک ایسے اقدامات کے ساتھ واپس آنا چاہیے جو امریکی خدشات کو دور کر سکیں۔
اس سے قبل امریکی بحریہ کے ایک عہدے دار نے اعلان کیا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ اور مشرقی بحیرہ روم میں 13 بحری جہاز موجود ہیں۔
اسی طرح امریکی عہدیداروں نے واضح کیا کہ خطے میں حالیہ موجودگی، ہفتوں تک فضائی جنگ شروع کرنے کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ یہ بات امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے بتائی۔
عہدے داروں نے اس جانب اشارہ کیا کہ امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کو ایران پر حملے کا فیصلہ کرنے کی صورت میں فوجی اختیارات کے بارے میں کئی بریفنگز دی گئی ہیں۔
یہ بیانات ڈونلد ٹرمپ کی جانب سے ایران کو سخت انتباہ جاری کرنے کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے ہیں، جس میں انہوں نے ایران کو واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنے یا ڈیاگو گارسیا بیس کے استعمال کے درمیان انتخاب کا اختیار دیا، اور ان کا مقصد واضح طور پر فوجی آپشن تھا۔
ڈونلد ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا "اگر ایران نے معاہدہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو امریکہ کے لیے ڈیاگو گارسیا بیس کا استعمال ضروری ہو سکتا ہے۔"
اپنی طرف سے ایک اعلیٰ سطح کے امریکی عہدے دار نے بدھ کو کہا کہ توقع ہے کہ ایران اس بارے میں ایک تحریری تجویز پیش کرے گا کہ منگل کو جنیوا میں ہونے والے امریکی ایرانی مذاکرات کے بعد واشنگٹن کے ساتھ تصادم سے کیسے بچا جائے۔
عہدے دار نے مزید کہا کہ قومی سلامتی کے اعلیٰ مشیروں نے ایران کے معاملے پر تبادلہ خیال کے لیے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ملاقات کی۔
"روئٹرز" نیوز ایجنسی کے مطابق انہیں مطلع کیا گیا کہ خطے میں تمام امریکی افواج کی تعیناتی 15 مارچ تک مکمل ہونی چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو 28 فروری کو اسرائیل میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس نے اشارہ دیا تھا کہ توقع ہے کہ ایرانی اگلے دو ہفتوں کے دوران مزید تفصیلات کے ساتھ واپس آئیں گے ... اور کچھ پیش رفت کی تصدیق کی گئی ہے۔
اسی طرح وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ ایران کے لیے معاہدہ کرنا دانش مندی ہو گی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ نمٹنے میں ڈپلومیسی اب بھی ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا آپشن ہے، لیکن اس کے باوجود ان کا خیال تھا کہ حملے کی کارروائی کے حق میں کئی وجوہات اور دلائل موجود ہیں۔
دریں اثنا امریکی سینٹرل کمانڈ "سینٹ کام" نے اعلان کیا ہے کہ "F/A-18 Super" طیارے بحیرہ عرب میں طیارہ بردار بحری جہاز "لنکن" پر اترے ہیں۔