سیلزمین سے خطرناک ترین مجرم بننے تک ... "ایل مینشو" کی پہلی تصویر

خالیسکو کارٹل کولمبیا سے ٹنوں کوکین ایکواڈور کے راستے بحر الکاہل کے ساحلوں پر واقع میکسیکو منتقل کرتا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

میکسیکو میں وفاقی حکام کے ایک فوجی آپریشن کے دوران منشیات کے سب سے خطرناک گروہ کے سرغنہ نیمیسیو اوسیگیرا، جو "ایل مینشو" کے نام سے مشہور تھا، کی ہلاکت نے جرائم پیشہ گروہوں میں غم و غصے کی آگ بھڑکا دی ہے۔ اس کے نتیجے میں زابوبان شہر میں تشدد اور راستوں کی بندش کے واقعات پیش آئے۔ ریاست خالیسکو کے گورنر پابلو لیموس نافارو نے صورت حال قابو میں آنے تک 80 لاکھ آبادی کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی اور پبلک ٹرانسپورٹ معطل کر دی گئی۔

"ایل مینشو" کون تھا؟

خالیسکو نیو جنریشن کارٹل (CJNG) کے 59 سالہ سربراہ نے زندگی کا آغاز ایک معمولی سیلز مین کے طور پر کیا اور دنیا کے بڑے اسمگلروں میں شامل ہو گیا۔ وہ 1966 میں پیدا ہوا اور انتہائی غربت میں پلا بڑھا۔ بعد ازاں پرائمری اسکول چھوڑ کر کھیتوں میں کام کرنے لگا۔ وہ 1980ء کی دہائی میں غیر قانونی طور پر امریکہ ہجرت کر گیا، جہاں 1989 میں منشیات فروشی کے جرم میں گرفتاری کے بعد اسے میکسیکو بے دخل کر دیا گیا۔ یہاں اس نے کچھ عرصہ مقامی پولیس میں بھی کام کیا۔

بعد ازاں اس نے ایک گینگ لیڈر کی بہن روزالینڈا گونزالیز سے شادی کی اور منظم جرائم کی دنیا میں اہم مقام حاصل کر لیا۔ اس کے بعد 2009-2010 کے قریب اس نے اپنا کارٹل قائم کیا، جو اس کی قیادت میں میکسیکو اور دنیا کا طاقتور ترین گروہ بن گیا۔ یہ کارٹل کولمبیا سے ٹنوں کوکین بحری جہازوں اور آبدوزوں کے ذریعے اسمگل کرتا تھا۔ اوسیگیرا اپنے نیم فوجی حربوں اور بھاری ہتھیاروں سے لیس سیکڑوں تربیت یافتہ جنگجوؤں کی وجہ سے مشہور تھا، جن میں سے بعض کو کولمبیا کی سابق اسپیشل فورسز نے تربیت دی تھی۔

"ایل مینشو" میکسیکو اور امریکہ کو مطلوب ترین افراد میں شامل تھا اور امریکہ نے اس کی گرفتاری کے لیے 1.5 کروڑ ڈالر کا انعام رکھا تھا۔ اس کی ہلاکت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب صدر کلاڈیا شینباوم کی حکومت نے واشنطن کے ساتھ سکیورٹی تعاون تیز کر دیا ہے۔ واشنگٹن نے بارہا خبردار کیا تھا کہ اگر میکسیکو نے ان گروہوں پر قابو نہ پایا تو وہ یک طرفہ فوجی کارروائی کر سکتا ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں