جنوبی کوریا کی پولیس نے 21 سالہ ایک نوجوان لڑکی کو دو افراد کو ''صدمے خیز ''انداز میں قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا، جس نے مقامی عوام میں شدید ہلچل مچادی۔
حکام کے بیان کے مطابق ملزمہ نے پہلا شکار دار کو دارالحکومت سیول کے ایک چھوٹے ہوٹل میں لُبھایا، جہاں اس نے اسے نیند آور گولیاں اور شراب کے مرکب سے بے ہوش کر کے ہلاک کر دیا۔
چند ہفتوں بعد اس نے یہی طریقہ کار دوسرے شکار کے ساتھ بھی دہرایا۔ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس نے دسمبر 2025 میں بھی قتل کی ایک کوشش کی تھی۔
سب سے زیادہ صدمے کی بات یہ ہے کہ لڑکی نے قاتلانہ دوا کی مقدار جاننے کے لیے ChatGPT کا استعمال کیا اور یہ سوالات ریکارڈ کیے کہ کس طرح دواؤں کو شراب کے ساتھ ملا کر موت واقع کی جا سکتی ہے۔
پولیس کے مطابق پہلے واقعے کے بعد اس نے زبردست طاقتور ادویات جیسے زاناکس اور ویلیئم کے ساتھ مقدار میں اضافہ کیا۔
تحقیقات کے دوران تفتیش کاروں نے تصدیق کی کہ ملزمہ اپنی حرکتوں کی سنگینی سے واقف تھی، جس کے باعث پراسیکیوٹر نے اس پر جان بوجھ کر قتل کرنے کا الزام عائد کیا۔
تحقیقات ابھی جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کوئی اور شکار تو موجود نہیں اور ملزمہ کو مقدمے کی کارروائی سے قبل مکمل نفسیاتی جائزے کے لیے رکھا گیا ہے، تاکہ ملک کے سب سے متنازعہ کیسز میں سے ایک کے محرکات کو سمجھا جا سکے۔