جاپان کی جنگِ عظیم دوم میں جوہری ہتھیار بنانے کی کوششیں
دنیا کی تاریخ میں چھ اگست اور نو اگست 1945 کے دن ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے، کیونکہ یہ وہ لمحات تھے جب انسانیت نے پہلی بار جوہری ہتھیار کا سامنا کیا۔ ان دنوں کے دوران ہروشیما اور ناگاساگی پر دو جوہری بم گرائے گئے، جنہوں نے ان شہروں میں وسیع تباہی مچائی اور لمحات میں سینکڑوں ہزاروں افراد کی جان لے لی۔
اس نئے ہتھیار کے استعمال نے دنیا بھر میں شدید صدمہ اور حیرت پیدا کی اور جاپان کو غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا، تاکہ اتحادیوں کی شرائط قبول کی جائیں۔
جنگ عظیم دوم کے دوران امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک نے بھی جوہری پروگرام شروع کیے۔ مثال کے طور پر جرمنی نے اپنا جوہری پروگرام ترک کر کے ''سپرسوارد '' (Superweapon)پر توجہ مرکوز کی، جبکہ جاپان نے بھی تحقیقات کیں اور جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کی۔
جوہری انشقاق
سال 1934 میں جاپان کے توہوکو یونیورسٹی کے فزیکس کے محقق ہیکوساکا تادایوشی (Hikosaka Tadayoshi) نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ایٹم کے مرکز (نیوکلئیس) میں بے پناہ توانائی موجود ہے، جسے بجلی پیدا کرنے یا ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سال 1938 میں جرمن سائنسدان اوٹو ہاہن (Otto Hahn) اور فریٹز شٹراسمان (Fritz Strassmann) نے دریافت کیا کہ یورینیم کے ایٹمز کو نیوٹران سے نشانہ بنانے پر بریم پیدا ہوتا ہے۔
بعد ازاں جرمن فزکسدان لیز مائٹ نر (Lise Meitner) اور اوٹو رابرٹ فریش (Otto Robert Frisch) نے اس واقعے کا تجزیہ کیا اور اسے "جوہری انشقاق" (Nuclear Fission) کا نام دیا۔یہ دریافت جوہری توانائی اور بعد میں جوہری ہتھیاروں کے حصول کی بنیاد بنی۔
جاپان میں جوہری پروگرام کی شروعات
جاپان میں فزیکسدان یوشیو نیشینا (Yoshio Nishina) کو جاپانی جوہری پروگرام کا باپ کہا جاتا ہے۔ نیشینا نے فزکسدان نیلز بوہر (Niels Bohr) کے ساتھ کام کیا اور البرٹ آئنسٹائن کے عہد میں بھی سرگرم رہے۔
انہوں نے کیمیکل فارمولا Klein Nishina میں اپنا حصہ ڈالا اور 1931 میں ٹوکیو کی ریکن یونیورسٹی (RIKEN) میں جوہری تحقیق کے لیے لیبارٹری قائم کی۔
سال 1936 تا 1937 کے دوران نیشینا نے جاپان میں پہلی سینکرونیس ایکسیلیریٹر (Circular Accelerator) تعمیر کرنا شروع کیا۔
سال 1939 تک انہوں نے جوہری انشقاق کی بنیاد پر ہلاکت خیز ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو سمجھا۔گہری تحقیقات کے بعد نیشینا نے جنرل تاکیو یاسودا (Takeo Yasuda) کو جوہری انشقاق کی طاقت کے بارے میں آگاہ کیا۔
جاپان کے وزیرِ جنگ ہیداکی توجو (Hideki Tōjō) کے حکم پر 1941 میں ریکن یونیورسٹی میں فوجی جوہری تحقیقاتی پروگرام کا آغاز ہوا، جس میں درجنوں اعلیٰ جاپانی فزیکسدان شامل تھے۔
نی-گو (Ni-Go) پروگرام کی ناکامی
جاپان نے اپنا پہلا جوہری پروگرام "نی-گو (Ni-Go)" ریکن یونیورسٹی میں شروع کیا۔ رپورٹس کے مطابق اس پروگرام کے تحت محققین نے:جوہری انشقاق کا گہرا مطالعہ کیا،یورینیم کی افزودگی پر کام کیا تاکہ U-235 حاصل کیا جا سکےاور یورینیم پر مبنی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کا جائزہ لیا۔
اگرچہ یہ منصوبہ ابتدا میں پرعزم تھا، یہ ناکام رہا۔ ناکامی کی وجوہات میںچھوٹے سائز کی لیبارٹریاں،ٹیکنالوجی کی کمی،صنعتی وسائل کی کمی،یورینیم کی کمی،امریکی بمباری اور جنگ کی وسعت اور جاپانی بحریہ کا زیادہ وسائل بحری ہتھیار اور طیارے بنانے پر مرکوز کرنا شامل تھیں۔نتیجتاً،نی-گو پروگرام اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
جاپانی جوہری پروگرام کی ناکامی
جاپان نے بعد میں فزیکسدان بونساکو آراکاتسو (Bunsaku Arakatsu) کی قیادت میں دوسری کوشش شروع کی تاکہ جوہری ہتھیار بنانے اور توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت کا مطالعہ کیا جا سکے۔
اس پروگرام کو "ایف-گو (F-Go)" کا نام دیا گیا اور محققین نے دوبارہ:جوہری انشقاق اور یورینیم کی خصوصیات کا مطالعہ کیااور جاپانی بحریہ کے لیے جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کی۔
تاہم یہ پروگرام بھی صرف نظریاتی سطح تک محدود رہا۔ ناکامی کی وجوہات میں شامل تھیں:وسائل کی کمی،امریکی بمباری جس نے جاپان کے صنعتی شہر تباہ کیے۔
نتیجتاً جاپان کا یہ جوہری ہتھیار منصوبہ امریکی پروگرام کے مقابلے میں مکمل ناکام رہا۔جنگ عظیم دوم کے اختتام پر جاپان نے اپنے آئین میں جوہری ہتھیار رکھنے سے انکار کیا اور ہتھیاروں کی غیر پھیلاؤ کی معاہدے کو قبول کیا۔
-
لبنان میں جنگ روکنے کا کوئی فرانسیسی منصوبہ نہیں: فرانس
فرانس کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز کہا کہ لبنان میں اسرائیلی افواج اور حزب اللہ ...
مشرق وسطی -
ایران کی جنگ کا تیسرا ہفتہ:بمباری جاری، پاسدارانِ انقلاب کانیتن یاہو کونشانہ بنانے کاعندیہ
ایران میں جاری جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے۔ اتوار کے روز ایرانی پاسدارانِ ...
مشرق وسطی -
ایران جنگ سے صوبہ بلوچستان میں ایندھن کی سمگلنگ کا کلیدی ذریعہ متأثر
ایل پی جی کی درآمد، سرحد پار اور غیر رسمی تجارت سست روی کا شکار
پاكستان