امریکی جامعات میں اہم عہدوں پر فائز ایرانی حکام کے بچوں کے بارے میں جانیے

سرکاری سیاسی بیانیے اور ایرانی حکمران طبقے کے بچوں کی امریکہ میں موجودگی کے بیچ پائے جانے والے تضاد پر اٹھنے والے سوالات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی اخبار New York Post کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی نظام کے متعدد حکومتی اعلیٰ عہدے داروں اور سیاسی شخصیات کے بچوں اور قریبی رشتہ داروں کی امریکہ میں موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ ان میں سے کچھ نیویارک سے لواس اینجلس تک کی بڑی یونیورسٹیوں میں تعلیمی اور تحقیقی عہدوں پر فائز ہیں۔ یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایرانی نظام پر حالیہ امریکی حملوں کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان شدید سیاسی تناؤ اور باہمی دشمنی پر مبنی بیان بازی عروج پر ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ افراد "میساچوسٹس" یونیورسٹی، نیویارک کے "یونین" کالج اور "جورج واشنگٹن" یونیورسٹی جیسے معتبر تعلیمی اداروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ان کی موجودگی کو ایک ذاتی اور تعلیمی حق کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن سیاسی حلقے اور اپوزیشن تنظیمیں اس موجودگی کی نوعیت اور اس کے ممکنہ اثرات پر سوالات اٹھا رہی ہیں۔

فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز سے وابستہ جوناتھن ساہ جیسے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نظام سے وابستہ افراد کا با اثر عہدوں تک پہنچنا امریکی یونیورسٹیوں کے اندر مخصوص نقطہ نظر کی تشکیل میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب اخبار نے اشارہ کیا ہے کہ مذکورہ شخصیات میں سے کسی کے بھی غیر قانونی سرگرمیوں یا امریکی اقدار کے منافی کاموں میں ملوث ہونے کے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔

رپورٹ میں شامل نمایاں شخصیات درج ذیل ہیں :

لیلیٰ خاتمی : یہ سابق ایرانی صدر محمد خاتمی کی صاحب زادی ہیں اور نیویارک کے "یونین" کالج میں ریاضی کی پروفیسر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ان کے والد کو سیاسی طور پر "اصلاح پسند" قرار دیا جاتا ہے، تاہم مخالفین کا خیال ہے کہ وہ اب بھی ایرانی مقتدرہ کا حصہ ہیں۔

فاطمہ اردشیر لاریجانی : یہ حال ہی میں مارے جانے والے اہم عہدےدار علی لاریجانی کی صاحب زادی ہیں۔ وہ رواں سال جنوری تک ایموری یونیورسٹی سے وابستہ "ون شپ" انسٹی ٹیوٹ میں ڈاکٹر اور محقق کے طور پر کام کر رہی تھیں، جہاں انہوں نے اپوزیشن کارکنوں کے دباؤ کے بعد اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔

زہرا محقق داماد : یہ آیت اللہ مصطفیٰ محقق داماد کی صاحب زادی اور علی لاریجانی کی بھانجی ہیں۔ وہ الینوائے یونیورسٹی کے نیوکلیئر اور ریڈیولوجیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں پروفیسر ہیں اور پیچیدہ ٹیکنالوجی سسٹمز کے خطرات کے تجزیے کے یونٹ کی سربراہ ہیں۔

عیسیٰ ہاشمی : یہ لوس اینجلس میں ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اور معصومہ ابتکار کے بیٹے ہیں۔ معصومہ 1979 کے امریکی سفارت خانے کے یرغمالی بحران کے دوران طلبہ کی ترجمان کے طور پر مشہور ہوئیں اور بعد میں خواتین کے امور کی نائب صدر رہیں۔

ان خاندانی روابط کے انکشاف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں اور آن لائن پٹیشن ویب سائٹوں پر ایک تحریک کو جنم دیا ہے۔ ہزاروں افراد نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس میں ان میں سے بعض ماہرین تعلیم کی قانونی حیثیت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ لودان بازرگان جیسے انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایرانی اشرافیہ کے معیارات میں "دوغلا پن" ہے جو مغرب پر تنقید کرتے ہیں لیکن اس کے تعلیمی اور طبی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ماہرین اور اپوزیشن کے اندازے بتاتے ہیں کہ ایرانی حکام کے تقریباً 4000 سے 5000 رشتہ دار امریکہ میں مقیم ہیں۔ رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ خاندانی ناموں میں فرق کی وجہ سے تمام کیسوں کا سراغ لگانا مشکل ہے، جس کی وجہ سے تعلیمی کیڈرز اور تہران کی سیاسی قیادت کے درمیان براہ راست روابط کی نشان دہی کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔

اخبار نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ آیا افراد کے تعلیمی کیریئر کو ان کے خاندانوں کے سیاسی پس منظر سے الگ کیا جانا چاہیے، یا کیا خاندانی تعلق انہیں دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ سیاسی منظر نامے کا حصہ بنا دیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں