"امریکی فوج کو انڈونیشیا کی فضائی حدود تک رسائی دینے کی تجویز پر تبادلۂ خیال جاری ہے"
امریکہ اپنے فوجی طیاروں کے لیے 'پوری رات کی بلاتعطل رسائی' کا خواہاں ہے
انڈونیشیا کی وزارتِ دفاع نے پیر کو کہا ہے کہ انڈونیشیا اور امریکہ امریکی فوجی طیاروں کو انڈونیشیا کی فضائی حدود تک رسائی دینے کی تجویز پر تبادلۂ خیال کر رہے ہیں نیز کہا کہ تاحال کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔
اتوار کو متعدد ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی کہ امریکہ فوجی طیاروں کے لیے انڈونیشیا کی فضائی حدود کی "پوری رات کی بلاتعطل رسائی" کا خواہاں ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ صدر پرابوو سوبیانتو نے یہ تجویز منظور کر لی تھی۔
اطلاعات کا جواب دیتے ہوئے وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں ممالک ہنوز "مفاہمتی خط" پر گفتگو کر رہے ہیں اور یہ صرف ایک ابتدائی مسودہ ہے جس پر اندرونی طور پر بات ہو رہی ہے۔ وزارت نے مزید کہا ہے کہ مسودہ نہ تو حتمی ہے اور نہ ہی قانوناً پابند ہے۔
وزارت نے کہا، انڈونیشیا کی فضائی حدود کا کنٹرول انڈونیشیا کا ہے، دیگر ممالک سے سودے انڈونیشیا کی خودمختاری کا تحفظاور اس کے قانون کی پاسداری کریں گے۔
امریکی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک ہدایت کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ پیر کے اواخر میں اپنے انڈونیشیائی ہم منصب جعفری شمس الدین سے ملاقات کرنے والے ہیں۔