"یورپی نیٹو"... ٹرمپ کے اتحادیوں کو بحر اوقیانوس کے اتحاد سے امریکی صدر کے انخلا کا اندیشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیٹو اتحادیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر بعض یورپی ممالک نے متبادل منصوبوں پر غور شروع کر دیا ہے تاکہ یورپ کا دفاعی نظام خود کفیل ہو سکے۔

حکام کے مطابق ان منصوبوں کو "یورپی نیٹو" کا نام دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد اتحاد کے اندر کمانڈ اور کنٹرول کے نظام میں یورپی ممالک کی شرکت بڑھانا اور امریکی فوجی اثاثوں کی جگہ یورپی وسائل کو بروئے کار لانا ہے۔ امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" کے مطابق ان غیر رسمی بات چیت کا مقصد موجودہ اتحاد کا مقابلہ کرنا نہیں، بلکہ روس کے خلاف دفاعی صلاحیت برقرار رکھنا ہے، تاکہ اگر واشنگٹن اپنی افواج واپس بلا لے یا دفاع سے انکار کر دے تو یورپ تیار رہے۔

یہ منصوبہ بندی گذشتہ سال شروع ہوئی تھی، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈنمارک سے گرین لینڈ لینے کی دھمکی اور ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہ ہونے پر یورپی ممالک پر تنقید نے اس میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادیوں کو بزدل اور نیٹو کو "کاغذی شیر" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتین بھی یہ حقیقت جانتے ہیں۔

یورپی حکام اب ان شعبوں میں پیداوار بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں وہ امریکہ سے پیچھے ہیں، جیسے کہ آبدوزیں، جاسوسی کی صلاحیت، فضا میں ایندھن بھرنے کا نظام اور فضائی نقل و حمل۔ جرمنی اور برطانیہ کی جانب سے کروز میزائلوں اور ہائپر سونک (آواز سے تیز رفتار والے) ہتھیاروں کی تیاری کا مشترکہ منصوبہ اسی سمت میں ایک قدم ہے۔ اس کے علاوہ بعض ممالک نے لازمی فوجی تربیت کو دوبارہ بحال کرنے پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔

اس مشن کی تکمیل میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔ نیٹو کا سپریم کمانڈر ہمیشہ ایک امریکی ہوتا ہے اور امریکہ اس عہدے کو چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ مزید برآں کسی بھی یورپی ملک کے پاس امریکہ جیسا اثر و رسوخ نہیں، خاص طور پر جوہری چھتری کی فراہمی کے حوالے سے جو نیٹو کے دفاعی نظام کی بنیاد ہے۔

فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب جو ان منصوبوں میں شامل ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ذمہ داریوں کی امریکہ سے یورپ منتقلی کا عمل شروع ہو چکا ہے اور اسے منظم طریقے سے جاری رہنا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ امریکہ کے اچانک انخلا کے بجائے یہ بتدریج تبدیلی زیادہ بہتر ہے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مہم میں تعاون نہ کرنے پر نیٹو سے علیحدگی کی دھمکی دی تھی۔ اگرچہ اتحاد سے نکلنے کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہے، لیکن بطور کمانڈر ان چیف صدر کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ یورپ سے فوجیں واپس بلا لیں یا فوجی امداد روک دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں