صومالیہ نے "صومالی لینڈ" کے علاقے میں اسرائیلی سفارتی نمائندے کی تعیناتی مسترد کر دی
یہ اقدام صومالیہ کی خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے
صومالیہ نے حال ہی میں اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے صومالیہ کے شمال مغربی علاقے (صومالی لینڈ) میں سفارتی نمائندہ تعینات کرنے کے اعلان کی شدید مذمت کی ہے۔
صومالی وزارت خارجہ نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ یہ اقدام صومالیہ کی خود مختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے، نیز یہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں بشمول اقوام متحدہ کے منشویر، افریقی یونین کے بانی اصولوں، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے اصولوں کے صریحاً منافی ہے، جو واضح طور پر اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ صومالیہ اپنی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حدود کے اندر ایک واحد، خود مختار اور ناقابل تقسیم ریاست ہے۔
بیان کے مطابق صومالیہ کی وفاقی حکومت اپنی سرزمین کے کسی بھی حصے کو ریاستی اتھارٹی سے باہر سفارتی یا سیاسی طور پر تسلیم کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔ صومالیہ کا شمال مغربی علاقہ (صومالی لینڈ) وفاقی جمہوریہ صومالیہ کا اٹوٹ انگ ہے اور اسے ایک علیحدہ وجود کے طور پر پیش کرنے کی کسی بھی کوشش کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے اور یہ مستحکم بین الاقوامی اتفاق رائے کو نقصان پہنچاتی ہے۔
اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا کہ ایک ایسے وقت میں جب صومالیہ ریاستی اداروں کی مضبوطی، بہتر طرزِ حکمرانی کے فروغ، قومی مفاہمت کی کوششوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے، اس قسم کی کارروائیاں علاقائی استحکام کو بگاڑ سکتی ہیں اور تفرقہ انگیز بیانیے کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہیں، جس سے خطے میں امن و استحکام کے قیام کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔
صومالیہ نے اسرائیلی قابض حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس فیصلے سے دست بردار ہوں اور صومالیہ کی خود مختاری، سالمیت اور سیاسی آزادی کے احترام کی مکمل پابندی کریں۔ اس کے علاوہ افریقی یونین، اقوام متحدہ، عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم، یورپی یونین اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون پر کاربند رہیں اور صومالیہ کے اتحاد کو نقصان پہنچانے یا علیحدگی پسند رجحانات کو قانونی حیثیت دینے والے کسی بھی اقدام کو مسترد کر دیں۔
وفاقی جمہوریہ صومالیہ نے بین الاقوامی قانون کی دفعات کے مطابق تمام دستیاب سفارتی، سیاسی اور قانونی ذرائع سے اپنی قومی وحدت کے تحفظ اور اپنے خود مختار حقوق کے دفاع کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے گذشتہ سال دسمبر کے آخر میں صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ یہ فیصلہ کرنے والا پہلا ملک بن گیا جس پر خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے مذمت کی گئی۔
اسی مہینے میں اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے اس علاقے کا دورہ کیا جو تسلیم کیے جانے کے بعد کسی بھی اعلیٰ اسرائیلی اہل کار کا پہلا دورہ تھا۔ شمالی صومالیہ میں واقع صومالی لینڈ کا علاقہ، جس کا دارالحکومت ہرجيسا ہے، تین دہائیوں سے زائد عرصے سے صومالیہ سے عملاً آزاد ہے۔
مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے 20 سے زائد ممالک کے ساتھ ساتھ اسلامی تعاون تنظیم نے بھی اسرائیلی اقدام کو مسترد کرنے کا اظہار کیا ہے۔
-
ایران اور لبنان میں جنگ جاری رکھنے کے منصوبوں کی منظوری دے دی: اسرائیل
ایران میں اہداف تیار ہیں، فوری بھرپور حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں: اسرائیلی چیف ...
مشرق وسطی -
لبنان میں ممکنہ سیز فائر پر اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ میں غور
اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے بدھ کے روز لبنان میں ممکنہ جنگ بندی کے بارے میں غور ...
مشرق وسطی -
اسرائیل اور لبنان کے درمیان بات چیت آج ہو گی : ٹرمپ
لبنانی سرکاری ذریعے نے "فرانس پریس" کو بتایا کہ "ہمارے پاس اسرائیلی فریق کے ساتھ ...
بين الاقوامى