لبنان میں ممکنہ سیز فائر پر اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ میں غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے بدھ کے روز لبنان میں ممکنہ جنگ بندی کے بارے میں غور کیا ہے۔ یہ بات اسرائیل کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتائی ہے۔

جنگ بندی کے بارے میں یہ غور جنگ کے چھٹے ہفتے کے بعد کیا گیا ہے۔ کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی مدد سے ہونے والی جنگ بندی کو اسرائیل نے لبنان کے لیے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

عہدیدار کے مطابق اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کا اجلاس وزیر اعظم نیتن یاہو کی صدارت میں ہوا۔

ادھر لبنان میں حزب اللہ کے ایک عہدیدار ابراہیم الموسوی نے خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کو بتایا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ایران اور علاقے کے دوسرے ملکوں کی طرف سے جاری کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی ہو جائے۔

اس عہدیدار کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش جنگ میں لیوریج حاصل کرنے کے لیے کر رکھی ہے۔

لبنان ہی میں دو دیگر عہدیداروں نے جنگ بندی کے لیے جاری کوششوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو امریکہ کی طرف سے دباؤ کا سامنا ہے تاکہ لبنان میں جنگ بندی ممکن ہو۔ حتیٰ کہ منگل کے روز واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے جنگ بندی مذاکرات میں بھی امریکی دباؤ موجود رہا۔

یاد رہے لبنان میں اسرائیل نے اس نئی جنگ کا آغاز 2 مارچ کو کیا تھا اور لبنان میں اپنی جنگ کو ایران میں جاری جنگ کے ساتھ منسلک کر دیا تھا۔ تاہم اسرائیل نے ابھی تک لبنان میں جنگ بندی قبول نہیں کی ہے۔ اب تک دو ہزار سے زائد لبنانیوں کو اسرائیل نے بمباری میں ہلاک کیا ہے جبکہ 12 لاکھ سے زائد کو بے گھر کر دیا ہے جو نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے پہلے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کی جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں دیکھنے کو اگلے دو دن متاثر کن ملیں گے۔ ان کا یہ کہنا ایسے موقع پر ہے جب امریکی نیول فورسز نے ایران کے اردگرد اپنا محاصرہ کر رکھا ہے اور آبنائے ہرمز کو بلاک کر دیا ہے۔

خیال رہے بدھ کے روز امریکہ نے لبنان میں جنگ بندی کرانے کے لیے اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی۔ تاہم اسرائیل نے لبنان کے ساتھ جنگ بندی پر ابھی آمادگی ظاہر نہیں کی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اسرائیل سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ لبنان پر حملے بند کرے اور ایران کے ساتھ کی گئی جنگ بندی کو کمزور نہ ہونے دے۔

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ لبنان کے خلاف اسرائیلی جنگ کو مشرق وسطیٰ میں جاری بڑی جنگ کے ساتھ ہی ختم ہونا چاہیے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ دونوں حوالوں سے اگرچہ جنگ بندی کی گفتگو جاری ہے۔ تاہم ان دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔

لبنان سے تعلق رکھنے والے دو عہدیداروں نے اس بارے میں کوئی تفصیل شیئر نہیں کی کہ جنگ بندی کب شروع ہو سکے گی اور یہ کتنا عرصہ جاری رہ سکے گی۔ البتہ ان عہدیداروں نے یہ ضرور کہا امکان ہے کہ یہ جنگ بندی امریکہ و ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے سے ہی جڑی ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں