الجزائر: کم ترین اخراجات میں اندرون ملک سیاحت، رہائش کے لیے مفت گھروں کی فراہمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

الجزائر میں موسم گرما کے قریب آتے ہی ’’ یوتھ ہاسٹلز ‘‘ بڑی تعداد میں سیاحوں کے استقبال کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ یہ رہائشی مقامات اندرون ملک سیاحت کی حوصلہ افزائی کے لیے بنائی گئی ہیں جو علامتی معاوضے کے بدلے رہائش کے مراکز کے طور پر کام کرتی ہیں۔ یہ ہاسٹلز الجزائر کی وزارتِ نوجوانان کی نگرانی میں ہیں۔ یہ ہاسٹلز ان اکثر نوجوانوں کے لیے ایک عملی حل بن چکے ہیں جن کے پاس ہوٹلوں یا مسافر خانوں میں کمرے کرائے پر لینے کا بجٹ نہیں ہوتا۔

انہی نوجوانوں میں سے ایک 27 سالہ نصر الدین عیوان ہیں جن کا تعلق دارالحکومت الجزائر سے ہے اور وہ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ نصر الدین عیوان نے کہا کہ تقریباً ہر سال، میں کسی نہ کسی صوبے میں یوتھ ہاسٹل میں کمرہ کرائے پر لیتا ہوں، آخری مرتبہ گزشتہ برس میں نے ساحلی صوبے جیجل کی سیاحت کے لیے ایسا کیا تھا۔ انہوں نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جیجل کے علاقے زیامہ میں واقع یوتھ ہاسٹل الجزائر کے بہترین ہاسٹلز میں شمار ہوتا ہے کیونکہ اس میں وہ تمام سہولیات موجود ہیں جن کی ایک سیاح یا مسافر کو ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ یوتھ ہاسٹلز صرف سیاحوں کے لیے مخصوص نہیں ہیں۔

یونیورسٹی کے طالب علم صالح کے مطابق کہ سیاحت ہر لحاظ سے مہنگی ہے خواہ وہ ملک کے اندر ہو یا باہر، لیکن میں نے عادت بنا لی ہے کہ عارضی کاموں یا چھٹیوں کے دوران کچھ بجٹ بچا کر رکھوں تاکہ گرمیوں میں تفریحی دوروں پر خرچ کر سکوں۔ مجھے لگتا ہے کہ سیاحتی دوروں کے دوران پیسے بچانے کے لیے یوتھ ہاسٹلز یا کھلے آسمان تلے کیمپنگ ہی دو واحد حل ہیں اور میں عام طور پر یہی کرتا ہوں۔

نقل و حمل اور رہائش

سیاحت کے ماہر رابح علیلش نے کہا کہ نقل و حمل اور رہائش بیرونی سیاحت کے دو اہم ترین ستون ہیں، لیکن اندرون ملک سیاحت میں رہائش سب سے اہم عنصر ہے جو سیاحت کے معیار کا تعین کرتا ہے کیونکہ ٹرانسپورٹ مناسب بجٹ میں دستیاب ہوتی ہے۔ انہوں نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ کو بتایا کہ سیاحوں کے لیے رہائشی جگہوں کی فراہمی اندرون ملک سیاحت کو فروغ دینے اور اسے مزید پھلنے پھولنے کی ترغیب دینے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

تاہم رابح علیلش نے ایک مسئلے کی طرف اشارہ کیا کہ ان رہائشی جگہوں میں بستروں کی بڑی تعداد کو سنبھالنے کی گنجائش نہیں ہے، جس کی وجہ سے یہ سیاحوں یا ان صوبوں کے زائرین کی بڑی طلب کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ اس لیے انہوں نے مزید مسافر خانوں اور یوتھ ہاسٹلز کی فراہمی کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی طبقات کے لیے ہوٹلوں کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا۔

تعلیمی اور ثقافتی تحریک

اس حوالے سے تعلیمی ماہر عمار بلحسن نے بھی بات کی اور کہا کہ سیاحت محض ایک معاشی سرگرمی نہیں ہے بلکہ یہ ایک تعلیمی، ثقافتی اور تہذیبی تحریک بھی ہے۔ ایسی نسل کی پرورش بہت ضروری ہے جو سیاحت اور سفر سے محبت کرے کیونکہ یہ علم اور معلومات میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ سے گفتگو میں کہا کہ سیاحت کی حوصلہ افزائی دراصل علم اور ثقافتوں سے آگاہی کی حوصلہ افزائی ہے جس کے نتیجے میں دوسروں کو قبول کرنے اور ان کے ساتھ مل کر رہنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے خواہ یہ ایک ہی ملک کے اندر ہو۔ خاص طور پر اگر وہ الجزائر جیسا ملک ہو جس کا رقبہ ایک براعظم جتنا ہے تو وہاں پر سیاحت کی حوصلہ افزائی ضروری ہوجاتی ہے۔

عمار بلحسن نے یہ بھی کہا کہ بطور سیکنڈری سکول ٹیچر طلبہ کے ساتھ اپنے مستقل رابطے کی بنیاد پر ہم نے نوٹ کیا ہے کہ جو بچے اور نوجوان زیادہ سفر اور سیر و سیاحت کرتے ہیں، وہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ باخبر اور باشعور ہوتے ہیں۔ اس کا اثر ان کے اسباق اور معلومات کو سمجھنے پر بھی پڑتا ہے۔ مزید برآں سفر کے مثبت نفسیاتی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں اور وہ تعلیمی سفر جاری رکھنے کے لیے زیادہ چستی کے ساتھ واپس لوٹتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں