واشنگٹن میں اہم پیش رفت: وزیرِ دفاع کی ایران سے متعلق کانگریس کو بریفنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ آج بدھ کے روز کانگریس کے سامنے پیش ہو رہے ہیں، جہاں وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے اپنی پہلی بریفنگ دیں گے۔

یہ پیشی ایسے وقت میں ہو رہی ہے، جب تنازع کے خاتمے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو اندرونی دباؤ کا سامنا ہے۔

یہ اجلاس ایسے ماحول میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کی جانب سے سخت تنقید سامنے آ رہی ہے۔

ارکانِ کانگریس کا کہنا ہے کہ جنگ سے متعلق شفافیت کا فقدان ہے اور پیش رفت پر باقاعدہ بریفنگ فراہم نہیں کی جا رہی۔

خبر رساں ادارے کے مطابق یہ جنگ فروری کے آخر میں امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔

دباؤ کے تحت احتساب

متوقع ہے کہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کے ساتھ ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سخت سوالات کا سامنا کریں گے۔

خاص طور پر ڈیموکریٹ اراکین ان پر جنگی تنازع کے انتظام پر جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔تنقید کا دائرہ اس بات تک بھی پھیلا ہوا ہے کہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے سے قبل کانگریس سے دوبارہ رجوع نہیں کیا گیا، حالانکہ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار قانون ساز ادارے کے پاس ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ



اس معاملے نے آئینی اور سیاسی سطح پر ایک وسیع بحث کو جنم دیا ہے۔مزید یہ کہ کئی ارکانِ کانگریس نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں پر بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کے مطابق محکمہ دفاع پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے حملوں کی تفصیلات اور حالات کے بارے میں عوام کو مکمل معلومات فراہم نہیں کیں۔

سفارتی تعطل اور بند آبنائے ہرمز

بین الاقوامی سطح پر ایران کے ساتھ مذاکرات بدستور تعطل کا شکار ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز، جو تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم عالمی راستہ ہے، جنگ کے آغاز کے بعد سے عملی طور پر بند ہے۔

اس صورتحال نے عالمی منڈیوں میں شدید بےچینی اور اتار چڑھاؤ پیدا کر دیا ہے۔واشنگٹن اس وقت ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی ان تجاویز پر غور کر رہا ہے، جن کا تعلق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

دونوں فریقوں کے درمیان بداعتمادی اور سیاسی بیانات میں شدت کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

جنگ کی بڑھتی ہوئی لاگت

جنگ کے اثرات اب امریکی معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور آئندہ وسط مدتی انتخابات کے قریب آتے ہی انتظامیہ پر سیاسی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔

کانگریس کے آئندہ اجلاس میں فوجی بجٹ کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے، کیونکہ انتظامیہ نے دفاعی بجٹ میں 42 فیصد اضافے کی درخواست کی ہے، جس کے تحت یہ رقم 2027 تک تقریباً 1اعشاریہ5 کھرب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ ایک غیر معمولی اضافہ سمجھا جا رہا ہے۔

اس درخواست نے فوجی وسائل کے ممکنہ دباؤ سے متعلق خدشات کو جنم دیا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب محدود اسٹاک والے میزائل اور اسٹریٹجک ہتھیاروں کا بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایک پیچیدہ علاقائی تناظر کا حصہ ہے، جہاں ایران کا جوہری پروگرام، خلیج میں بحری سلامتی، اور عالمی طاقتوں کے درمیان توازن جیسے اہم مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی واشنگٹن اور اس کے بعض یورپی اتحادیوں کے درمیان پالیسی اختلافات بھی بڑھ رہے ہیں۔

وزیرِ دفاع کی کانگریس میں پیشی کو جنگ کے تناظر میں ایک اہم موڑ سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ اندرونی سیاسی دباؤ، فوجی چیلنجز اور معاشی مشکلات کی عکاسی کرتی ہے۔

مذاکرات میں تعطل اور کشیدگی میں اضافے کے باعث صورتحال مختلف ممکنہ راستوں کی طرف جا رہی ہے، جن میں بتدریج بہتری یا مزید پیچیدگی دونوں شامل ہیں۔

حل کی کوششوں پر شکوک

صورتحال اس وقت تعطل کا شکار ہے کیونکہ جنگ کے خاتمے کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے تازہ ترین منصوبے پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔

ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ پر، جو تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے، امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد سے بندش برقرار رکھی ہوئی ہے، جس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

امریکی حکام نے ان رپورٹس کی تردید نہیں کی جن میں کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تجویز پر تحفظات رکھتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں منگل کے روز برطانوی بادشاہ چارلس سوم کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ''عسکری طور پر شکست ''دی جا چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا: بادشاہ چارلس مجھ سے زیادہ اس بات سے متفق ہیں کہ ہم اس دشمن کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔تاہم ایرانی فوج کے ترجمان نے سرکاری ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم جنگ کو ختم شدہ نہیں سمجھتے اور ایران امریکا پر اعتماد نہیں کرتا۔

ایک علیحدہ بیان میں ایک ایرانی کمانڈر نے کہا کہ ایران کے پاس کئی ایسے آپشنز موجود ہیں جو ابھی استعمال نہیں کیے گئے، اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو زیادہ سخت ردعمل دیا جائے گا۔

دوسری جانب جنگ کے خاتمے کی سفارتی کوششوں کو اس وقت دھچکا لگا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا پاکستان کا مجوزہ دورہ آخری وقت پر منسوخ کر دیا گیا۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں نیوکلیئر پروگرام اور آبنائے ہرمز کو ریڈ لائنزکے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

اس منصوبے میں ہرمز پر جزوی نرمی اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی دباؤ میں کمی کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ وسیع تر مذاکرات جاری رکھنے کی بات کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں