سیکریٹری جنرل نیٹو مارک روٹے نے پیر کو کہا کہ یورپی ممالک کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا "پیغام" مل گیا ہے اور اب وہ یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ فوجی مراکز کا استعمال کرنے کے معاہدوں پر عمل درآمد کیا جائے۔
ٹرمپ نے نیٹو کے بعض ممالک پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایران جنگ میں امریکہ کی حمایت کے لیے کافی اقدام نہیں کر رہے۔ امریکہ نے جمعہ کو جرمنی سے اپنے 5000 فوجیوں کو واپس بلانے کے منصوبے کا اعلان کیا جو یورپی اتحادیوں کی طرف سے اس کے عدم اطمینان کا ایک اور اظہار ہے۔
"ہاں، امریکہ کی طرف سے کچھ مایوسی ہوئی ہے لیکن یورپیوں کو پتا چل گیا ہے،" روٹے نے آرمینیا میں یورپی پولیٹیکل کمیونٹی کے سربراہی اجلاس میں صحافیوں کو بتایا۔
"وہ اب اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ تمام دو طرفہ بنیادوں کے معاہدوں پر عمل درآمد کیا جائے،" انہوں نے کہا۔
نیٹو کے رکن سپین نے کہا ہے کہ اس کی سرزمین پر موجود فوجی مراکز ایران سے جنگ کے لیے استعمال نہیں کیے جا سکتے۔ لیکن روٹے نے کہا ہے کہ نیٹو کے دیگر ممالک مثلاً مونٹی نیگرو، کروشیا، رومانیہ، پرتگال، یونان، اٹلی، برطانیہ، فرانس اور جرمنی فوجی مراکز کے استعمال اور دیگر حوالے سے عملی معاونت کی درخواستوں پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔
روٹے نے یہ بھی کہا، "زیادہ سے زیادہ" یورپی ممالک خلیج کے قریب بارودی سرنگوں کا سراغ لگانے اور انہیں ختم کرنے والے اثاثہ جات کو پہلے سے تعینات کر رہے ہیں تاکہ "اگلے مرحلے" کے لیے تیار رہیں۔
متعدد یورپی ممالک نے کہا ہے کہ وہ اس مشن میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں جو جنگ ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کی آزادی یقینی بنانے میں مدد کے لیے ہونا ہے۔