ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان تین روزہ جنگ بندی کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا ہے، جو 9 مئی سے 11 مئی تک جاری رہے گی۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر اپنے بیان میں کہا کہ اس جنگ بندی کے دوران تمام فوجی کارروائیاں روک دی جائیں گی، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ بھی کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا:ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ایک طویل، خونریز اور مشکل جنگ کے خاتمے کی شروعات ثابت ہوگی۔

امریکی صدر کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں مسلسل پیش رفت بھی ہو رہی ہے۔

ماسکو نے بھی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کر دی

دوسری جانب روس نے بھی 9 سے 11 مئی تک جنگ بندی اور یوکرین کے ساتھ بڑی تعداد میں قیدیوں کے تبادلے کی تصدیق کر دی ہے۔

کریملن کے مشیر برائے خارجہ پالیسی یوری اوشاکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ روسی فریق نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تجویز کو قبول کر لیا ہے، جو روس اور یوکرین کے درمیان جنگی قیدیوں کے تبادلے کے لیے جنگ بندی سے متعلق ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کیف کے ساتھ اس جنگ بندی کی تجویز روسی یومِ فتح کی تقریبات کے دوران سامنے آئی، جو حال ہی میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے بعد طے پائی۔

روس اور یوکرین کے درمیان 1000 کے بدلے 1000 قیدیوں کا تبادلہ

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلینسکی نے بھی جمعہ کے روز روس کے ساتھ تین روزہ جنگ بندی کی تصدیق کر دی، جو جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی کوششوں کے تحت طے پائی ہے۔

زیلینسکی نے ٹیلیگرام پر اپنے بیان میں کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے 1000 جنگی قیدیوں کا تبادلہ کریں گے، جبکہ انسانی مسائل یوکرین کی اولین ترجیح رہیں گے۔

انہوں نے لکھا:اسی لیے ہمیں آج امریکی ثالثی میں جاری مذاکرات کے دوران روس کی جانب سے 1000 کے بدلے 1000 جنگی قیدیوں کے تبادلے پر رضامندی موصول ہوئی ہے۔

یوکرینی صدر نے مزید کہا کہ 9 اور 10 مئی کو جنگ بندی کا بھی اعلان کیا جائے گا۔

یوکرین کے فوجی کمانڈ کو حکم

اس سلسلے میں زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے فوج کو حکم دیا ہے کہ روس کے یومِ فتح (دوسری جنگِ عظیم میں فتح کی یادگار) کے موقع پر 9 مئی کو ماسکو میں ہونے والی پریڈ کے دوران ریڈ اسکوائر کو نشانہ نہ بنایا جائے۔

صدارتی ویب سائٹ پر جاری ایک فرمان کے مطابق کہا گیا ہے کہ:9 مئی 2026 کو صبح 10 بجے (کیف وقت کے مطابق) سے پریڈ کے دوران ریڈ اسکوائر کے علاقے کو یوکرینی ہتھیاروں کے استعمال کی منصوبہ بندی سے خارج رکھا جائے گا۔

الزامات کا تبادلہ

یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب روس اور یوکرین نے ایک دوسرے پر دو روزہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، جو ماسکو نے نازی جرمنی پر فتح کی سالگرہ کے موقع پر نافذ کی تھی۔

روسی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اس نے آج صبح کے ابتدائی گھنٹوں میں 264 یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا۔

ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن کے مطابق روسی دارالحکومت کو بھی حملے کا سامنا کرنا پڑا۔اسی طرح روسی حکام نے بتایا کہ یورال پہاڑی علاقے میں واقع پرم خطہ بھی ڈرون حملے کی زد میں آیا۔

140 سے زائد حملے

اس کے برعکس یوکرینی صدر نے کہا ہے کہ روسی افواج نے رات بھر یوکرینی ٹھکانوں پر حملے جاری رکھے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ روس نے ان کے مطابق جنگ بندی روکنے کی کوئی بھی علامتی کوشش تک نہیں کی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کیف کے محاذ پر صبح 7 بجے (مقامی وقت، گرینچ کے مطابق 4 بجے) تک روس نے 140 سے زائد حملے کیے۔

زیلنسکی کے مطابق روسی افواج نے رات کے دوران 10 حملے کیے اور 850 سے زائد ڈرون حملے بھی کیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین اسی طرح جواب دے گا اور کہا: جیسے ہم گزشتہ 24 گھنٹوں میں کر چکے ہیں، آج بھی یوکرین اسی طرح جواب دے گا۔ ہم اپنے ٹھکانوں اور اپنے لوگوں کی جانوں کا دفاع کریں گے۔

یاد رہے کہ روس نے 8 سے 10 مئی کے دوران جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، کیونکہ اس دوران وہ دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی پر فتح کی سالگرہ مناتا ہے اور ماسکو میں فوجی پریڈ کا انعقاد کرتا ہے۔

روس نے خبردار کیا تھا کہ اگر یوکرین نے تقریبات میں خلل ڈالنے کی کوشش کی تو کییف پر میزائل حملے مزید تیز کیے جائیں گے اور غیر ملکی سفارتکاروں کو ممکنہ ردعمل کے پیش نظر دارالحکومت چھوڑنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔

دوسری جانب زیلنسکی نے روسی اعلان کے جواب میں کچھ دن قبل 6 مئی سے غیر معینہ جنگ بندی کی تجویز دی تھی، لیکن ان کے مطابق روس نے اسے بھی توڑ دیا۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کی تجاویز قبول نہیں کیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں