امریکی رپورٹوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ چین کے دورے پر موجود حکام کو چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ متوقع سربراہی ملاقات کے دوران الیکٹرونک جاسوسی اور ہیکنگ کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر اسمارٹ فونز اور دیگر آلات چھوڑنے اور دوبارہ کاغذات و مطبوعہ دستاویزات کے استعمال کی طرف لوٹنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی وفد کے ارکان کو سخت سکیورٹی ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ بیجنگ میں اپنے ذاتی فون یا معمول کے کمپیوٹر ساتھ نہ لائیں، تاکہ ہیکنگ یا جاسوسی کے سافٹ ویئر نصب ہونے کے خطرے سے بچا جا سکے۔ کچھ حکام سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ عارضی اور محدود ڈیٹا والے آلات استعمال کریں، جبکہ دیگر نے ملاقاتوں اور آمد و رفت کے دوران کاغذی نوٹس اور مطبوعہ دستاویزات پر بھروسا کرنے کو ترجیح دی۔
یہ اقدامات واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان سائبر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے تناؤ کی عکاسی کرتے ہیں، جو حالیہ برسوں میں دنیا کی دو بڑی معاشی قوتوں کے درمیان تنازع کا ایک اہم محور بن چکا ہے۔
امریکہ کئی برسوں سے چین پر یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ سرکاری اداروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حساس انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے الیکٹرونک جاسوسی کی کارروائیاں کرتا ہے، جبکہ بیجنگ ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ خود امریکی سائبر حملوں کا نشانہ بنتا ہے۔
گزشتہ برسوں کے دوران، واشنگٹن نے قومی سکیورٹی اور ڈیٹا کے تحفظ کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے "ہواوے" اور "ٹک ٹاک" سمیت چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر وسیع پابندیاں عائد کی ہیں۔
دوسری جانب چین نے غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر نگرانی سخت کر دی ہے اور امریکی ٹیکنالوجی پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت، چپس اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے۔
یہ سخت سکیورٹی اقدامات ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ایک حساس سربراہی ملاقات کے ساتھ سامنے آئے ہیں، جس میں توقع ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ، توانائی، تجارت اور الیکٹرونک چپس سمیت دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کے مستقبل جیسے پیچیدہ معاملات پر بات چیت ہوگی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حال ہی میں چین کو امریکہ کے لیے "سب سے بڑا جیو پولیٹیکل چیلنج" قرار دیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے جنگوں سے بچنے اور عالمی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو حکمت عملی سے چلانے کی ضرورت پر زور دیا۔
خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات کے باعث بھی موجودہ سربراہی ملاقات کی اہمیت بڑھ گئی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ اور جہاز رانی و توانائی کے استحکام پر سب سے زیادہ انحصار کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ اسمارٹ آلات کے بجائے کاغذات کے استعمال کی طرف واپسی واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان باہمی عدم اعتماد کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے، یہاں تک کہ اعلیٰ سطح کے سیاسی اور سفارتی مذاکرات کے لمحات میں بھی۔ یہ سکیورٹی اقدامات اس بات کو بھی بے نقاب کرتے ہیں کہ سائبر جاسوسی کا معاملہ تجارت، توانائی، مصنوعی ذہانت اور عالمی جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ کے ساتھ ساتھ اب امریکہ چین مقابلے کا ایک بنیادی حصہ بن چکا ہے۔