ایران کے حوالے سے امریکی قومی سلامتی کا اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات پر چھائے تعطل کے درمیان، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے واپسی کے بعد ملکی قومی سلامتی کی ٹیم کے اعلیٰ ارکان کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا تاکہ ایران کے ساتھ جنگ کے مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ یہ بات اجلاس سے با خبر ایک ذریعے نے بتائی ہے۔

ذریعے نے وضاحت کی کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر جون ریٹکلف اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے اس اجلاس میں شرکت کی جو ہفتے کے روز ریاست ورجینیا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے نجی گولف کلب میں منعقد ہوا۔ یہ بات "سی این این" نیٹ ورک نے رپورٹ کی ہے۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے بیجنگ کے دورے کے دوران تہران کے ساتھ نمٹنے کے طریقے کے بارے میں فیصلہ مؤخر کر دیا تھا، کیونکہ امریکی انتظامیہ کے متعدد عہدے داروں نے بتایا کہ وہ اگلا لائحہ عمل طے کرنے سے پہلے امریکی صدر اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتائج جاننا چاہتے تھے۔

گذشتہ دنوں کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں بڑے پیمانے پر دوبارہ فوجی آپریشن شروع کرنے کے بارے میں زیادہ سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا ہے تاکہ اسے جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر مجبور کیا جا سکے، اگرچہ وہ سفارتی حل تک پہنچنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

سکیورٹی ٹیم کا یہ اجلاس ان شدید لہجے کی دھمکیوں سے پہلے ہوا جو امریکی صدر نے گذشتہ روز اتوار کی شام تہران کے خلاف دی تھیں۔

واضح رہے کہ سفارتی مذاکرات کے حوالے سے تہران کے رویے پر ڈونلڈ ٹرمپ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے اور آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر اس کے اثرات پر ان کا غصہ بڑھ رہا ہے۔

روبیو اور وبنس (آرکائیو - اے ایف پی)
روبیو اور وبنس (آرکائیو - اے ایف پی)

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم کے ایک ترجمان اور ایک امریکی عہدے دار نے سی این این کو بتایا کہ امریکی صدر نے گذشتہ روز بنیامین نیتن یاہو سے بات چیت کی تھی۔

ایک اسرائیلی عہدے دار نے تصدیق کی کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران امریکہ سے اسرائیل کے لیے ہتھیاروں اور گولہ بارود کا ایک اضافی ہوائی پل فعال رہا ہے۔

عہدے دار نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹرمپ کی طرف سے ہری جھنڈی ملتے ہی، یہ توقع ہے کہ اسرائیل اور امریکہ ایران پر مشترکہ حملہ کریں گے۔ یہ بات "اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن" نے اپنی رپورٹ میں بتائی ہے۔

دوسری طرف ایرانی فریق اب بھی اپنی شرائط اور ان خطوط پر قائم ہے جنہیں وہ "سرخ لکیریں" کہتا ہے۔ ان میں اعلیٰ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ واشنگٹن منتقل نہ کرنا اور تہران کو جنگ کے نقصانات کا معاوضہ دینا شامل ہے۔ اس کے علاوہ یورینیم کی افزودگی کے حق پر قائم رہنا، اگرچہ اسے محدود سالوں کے لیے معطل کرنے کا معاملہ قابلِ مذاکرات ہے۔

ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ یہ توقع ہے کہ ٹرمپ اس ہفتے اپنی سکیورٹی ٹیم کے ساتھ ایک اور اجلاس کریں گے، جبکہ پینٹاگان نے فوجی منصوبوں اور اہداف کی ایک فہرست تیار کر لی ہے۔ اس میں ایران کے اندر توانائی کے مقامات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ بات حالیہ پیش رفت سے واقف ذرائع نے بتائی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں