آن ائیر بحث: ٹرمپ نے غصے میں ٹیلی ویژن انٹرویو ختم کر دیا
این بی سی کی خاتون میزبان نے الیکشن 2020 میں دھاندلی کے دعووں کے ثبوت مانگے تھے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ این بی سی نیٹ ورک پر پروگرام "میٹ دی پریس" کے ساتھ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کو اچانک اور متنازع طریقے سے چھوڑ کر چلے گئے۔ یہ واقعہ خاتون میزبان کرسٹن ویلکر کے ساتھ ایک کشیدہ گفتگو کے بعد پیش آیا۔
کرسٹن ویلکر نے 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات اور ریاست کیلیفورنیا میں دیگر انتخابات میں دھاندلی کے ان کے بار بار کیے جانے والے دعووں کے بارے میں ان سے پوچھ گچھ کی تھی۔
صدر ٹرمپ انٹرویو کے آخری منٹوں کے دوران واضح طور پر پریشان نظر آئے۔ یہ انٹرویو ریاست وسکونسن میں ایک زرعی گودام کے اندر بارش کے موسم اور پچھلی تکنیکی خرابیوں کے ماحول میں منعقد ہوا تھا۔ ٹرمپ نے یہ کہتے ہوئے انٹرویو ختم کیا کہ معذرت۔ آئیے اسے ختم کریں کیونکہ میں کافی حد تک تھک چکا ہوں۔ شکریہ میری عزیزہ، اپنا وقت انجوائے کرو۔
A visibly agitated President Trump stormed off his interview with NBC News’ “Meet the Press” after a testy exchange with a reporter who grilled him over his claims that the 2020 election was rigged. pic.twitter.com/16lriUiCSt
— New York Post (@nypost) June 7, 2026
شدید بحث اور باہمی الزامات
انٹرویو کے ایک وائرل ہونے والے ویڈیو کلپ کے مطابق ٹرمپ نے نیٹ ورک اور مجموعی طور پر پریس پر جانبدار اور دھوکے باز ہونے کا الزام لگایا اور کہا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے اور یہ گندے انتخابات ہیں۔ یہ اب کیلیفورنیا میں ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ لوگ ان باتوں سے دوسروں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، آپ لوگ یا تو دھوکے باز ہیں یا بیوقوف۔
خاتون کرسٹن ویلکر نے صدر پر اپنے دعووں کے ثبوت فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہوئے جواب دیا اور یہ کہا کہ انہوں نے پہلے عدالتوں میں قائل کرنے والے ثبوت پیش نہیں کیے۔ ویلکر نےکہا لیکن صدر صاحب، آپ کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ آپ نے یہ ثبوت پیش نہیں کیا کہ اس میں دھاندلی ہوئی تھی۔ گفتگو میں دیگر موضوعات پر بھی بات کی گئی۔ ٹرمپ کی طرف سے تجویز کردہ اینٹی ویپنائزیشن فنڈ اور 6 جنوری کے واقعات پر بات ہوئی۔ اس کے بعد تناؤ بڑھ گیا اور انٹرویو وقت سے پہلے ختم ہو گیا۔
فوری ردعمل
اس واقعے نے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر ردعمل پیدا کیا۔ "نیویارک پوسٹ" اخبار نے ایکس پر ایک پوسٹ شائع کی جس میں ٹرمپ کو واضح طور پر پریشان قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ وہ انتخابات میں دھاندلی کے دعووں کے بارے میں میزبان کے ساتھ شدید گفتگو کے تبادلے کے بعد انٹرویو چھوڑ کر چلے گئے۔
پوسٹ کے ساتھ ایک ویڈیو کلپ بھی منسلک تھا جس میں اس آمنے سامنے کے آخری لمحات کو دکھایا گیا ہے۔ یاد رہے یہ انٹرویو ایران کے ساتھ امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی کوششوں سے متعلق ایک وسیع تر کوریج کا حصہ تھا تاہم اس کا آخری حصہ انتخابات اور میڈیا کی ساکھ کے بارے میں براہ راست تصادم میں بدل گیا۔