امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کی کمیٹی نے نیشنل ڈیفنس اتھورائزیشن ایکٹ کے تحت مالی سال 2027 کے لیے قانون سازی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں کمیٹی میں ووٹنگ ہوئی اور 9 کے مقابلے میں 18 ووٹوں سے مسودہ قانون کو کمیٹی میں منظورکر کے سینیٹ کو ارسال کر دیا ہے۔
مسودہ قانون میں اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے اور فوجی معاہدوں کو مضبوط تر کرنے کے علاوہ ان ملکوں کے ساتھ بھی تعاون بڑھانے کی شقیں شامل کی گئی ہیں جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ ابراہم میں نتھی ہونا قبول کر لیا ہوگا۔
یہ ایک طرح سے امریکہ کی طرف سے معاہدہ ابراہم کرنے والے ملکوں کے لیے ترغیبات پیدا کی جارہی ہیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے بھی امریکہ اس امر کو اجاگر کرتا رہا ہے کہ جو مسلم ملک اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنائے گا اسے ترقی کے لیے امریکہ مکمل مدد دے گا۔
اس نئے مسودہ قانون میں جو شق سب سے زیادہ متازعہ ہے وہ اسرائیل کو دفاعی ٹیکنالوجی منتقل کرنے سے متعلق شق ہے۔ اس شق کی مںظوری سے امریکہ اسرائیل کے درمیان دفاعی شعبے میں تحقیق و تعاون بھی بڑھے گا اور دفاعی صنعتوں کے میدان میں بھی۔
اس قانون سازی کے بعد امریکہ و اسرائیل کے مشترکہ پروگرام برائے ڈرونز کے لیے فنڈز میں اضافہ ہو سکے گا۔ جبکہ قانون سازوں نے اس سلسلے میں ان انیشی ایٹیوز کو مزید گہرا کرنے کے لیے ہدایت کی ہے جو امریکہ اور ایسے ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کے لیے ہے جو اسرائیل کے ساتھ ابراہم معاہدہ کرنے پر اتفاق کریں گے۔
مسودہ قانون میں شام اور لبنان کے سلسلے میں بھی امریکی سیکیورٹی تعاون کا ذکر ہے تاہم اسے مشروط کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ دونوں ملکوں کو یہ امداد اس شرط کے ساتھ دی جائے گی کہ وہ حزب اللہ کے خلاف کام کرنے کو تیار ہوں۔
مسودہ قانون کی اس شق سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی کانگریس کے ارکان ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے اسرائیل کے خلاف مزاحمتی کردار سے کس قدر پریشان ہیں۔ شام کے لیے قانون سازوں نے کہا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے ہاں موجود غیر ملکی جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنے کے لیے نظر آنے والے اقدامات کرے۔
قانون سازی میں عراقی کردوں کو اسلحہ و تربیت دینے کے لیے بھی سفارش کی گئی ہے۔ تاکہ داعش کے خلاف امریکی کارروائیوں کو تسلسل سے جاری رکھا جا سکے اور کردوں کی امریکہ کو حمایت میسر رہے۔
علاوہ ازیں امریکی قانون سازوں نے کہا ہے کہ یہ مسودہ قانون درحقیقت صدر ٹرمپ کے زیر قیادت قائم غزہ امن بورڈ کے لیے ایک ذیلی کوشش ہے۔ تاکہ حماس کو غزہ میں مکمل طور پر ہتھیاروں سے محروم کیا جا سکے۔
'این ڈی اے اے' نامی اس بل برائے 2027 کو ابھی سینیٹ سے پاس کیا جانا ہے۔ کانگریس کی مکمل منظوری کے بعد اس پر صدر کے دستخط ہوں گے اور یہ قانون بن سکے گا۔
سینیٹ کی عام فورسز سے متعلق کمیٹی کے چیئرمین راجر وکر نے کہا امریکہ کو آج جس قدر خطرات کا سامنا ہے ایسے پیچیدہ خطرات پہلے کبھی نہ تھے۔ اس لیے انہیں جلد توجہ دینا ہوگی۔