لبنان کا اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا عمل ایران اور امریکہ کے مفاہمت سے آزاد ہے:لبنانی صدر

’ہم جنگ بندی کے حق میں ہیں اور ایران سمیت ہر معاونت کرنےوالے ہر ملک کا خیرمقدم کرتے ہیں ‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

لبنانی صدر جوزف عون نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا عمل اس مفاہمت سے مکمل طور پر آزاد ہے جس کا اعلان تہران اور امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے کیا ہے۔

لبنانی ایوانِ صدر کی جانب سے جاری بیان میں عون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ہمیں جو یقین دہانیاں ملی ہیں اور ہم جس بات پر اصرار کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ لبنان کا مذاکرات کا راستہ آزاد ہے۔ اگرچہ ہم جنگ بندی کے حق میں ہیں اور ایران سمیت ہر اس ملک کی حمایت کرتے ہیں جو ہماری مدد کرے، جنہوں نے امریکی حکام اور پاکستان کے ساتھ مل کر اعلان کیا تھا کہ جنگ بندی میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لبنان کا محاذ بھی شامل ہوگا۔

عون نے کہا کہ مذاکرات خود لبنانی ریاست کر رہی ہے اور اگلے ہفتے مذاکرات کا ایک نیا دور متوقع ہے، ہمیں امید ہے کہ یہ دور زیادہ مثبت ثابت ہوگا، خاص طور پر لبنان کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کی گہری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لبنانی ریاست اپنے فیصلوں میں خود مختار ہے اور پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ ریاست خود مذاکرات کر رہی ہے۔ اس کی جانب سے کوئی اور فریق مذاکرات نہیں کر رہا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ میں لبنانی عوام کو اطمینان دلاتا ہوں کہ ہمیں کسی دوسرے ملک کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے اور کوئی بھی تصفیہ ہماری قیمت پر نہیں بلکہ ہمارے ذریعے ہی ہوگا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان جنگ بندی تک پہنچنے میں مدد کے لیے ایران سمیت کسی بھی ملک کی حمایت کا خیرمقدم کرتا ہے، یہ قدم تہران کے خلاف ہفتوں کی سخت تنقید کے بعد زیادہ لچکدار لہجے کی عکاسی کرتا ہے۔

اس مہینے کے اوائل میں عون نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں لبنان کو سودے بازی کا کارڈ بنا رہا ہے اور کہا تھا کہ لبنانی عوام تہران کے مفادات کی خاطر مر رہے ہیں۔

گذشتہ اپریل سے لبنان امریکی دباؤ کے تحت اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں مصروف ہے جس کا مقصد حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والی حالیہ جنگ کو روکنا ہے۔ لبنانی حکام نے اپنے فائل کو ایران کے مذاکرات سے الگ کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا لیکن ایران، امریکی حکام اور پاکستانی ثالث کی جانب سے یہ اعلان کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ معاہدے میں لبنان شامل ہے، نے مقامی سطح پر معاملات کو دوبارہ الجھا دیا ہے۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مذاکرات کا پانچواں دور سنہ 2025ء کے 22 جون کو امریکہ میں ہونا طے پایا ہے، جس کے ذریعے بیروت جنگ بندی اور دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے تعلقات کا تعین کرنا چاہتا ہے۔

حزب اللہ نے پیر کے روز اپنے حامی ملک ایران کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے اس بات پر اصرار کیا کہ لبنان کو واشنگٹن کے ساتھ معاہدے میں شامل کیا جائے۔ حالانکہ بیروت براہ راست مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی اور جنگ کے دوران قابض اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا خواہاں ہے۔

حزب اللہ، جس نے حکومت کے تخفیفِ اسلحہ کے فیصلے کو مسترد کر دیا تھا، نے لبنانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ براہ راست مذاکرات سے دستبردار ہو جائیں۔

لبنان میں جنگ کا آغاز اس وقت ہوا جب حزب اللہ نے ایران پر 28 فروری سنہ 2025ء کو ہونے والے پہلے امریکی اسرائیلی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے جواب میں اسرائیل پر میزائل فائر کیے۔ جس کے جواب میں اسرائیل نے بڑے پیمانے پر فضائی حملے اور زمینی پیش قدمی شروع کی۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت کے اعلان کے بعد حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان حملوں اور عسکری کارروائیوں کی شدت میں کمی آئی ہے لیکن یہ مکمل طور پر نہیں رکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں