انٹر ٹینکو (Intertanko) دنیا بھر میں آزاد آئل ٹینکر مالکان کی نمائندگی کرنے والی ایک تجارتی تنظیم ہے۔ اس کے میرین ڈائریکٹر فلپ بلچر نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز کا مرکزی راستہ تا حال بند ہے... جہاں تقریباً 80 بارودی سرنگیں موجود ہیں جنہیں ہٹانے کی ضرورت ہے۔
تاہم انہوں نے مزید کہا کہ جہاز چھوٹے شمالی راستے سے گزر سکتے ہیں جو ایرانی پانیوں سے گزرتا ہے اور جنوبی راستے سے جو عمانی پانیوں سے گزرتا ہے۔ سی بی ایس نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق بلچر نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ دونوں راستے اب مکمل طور پر کھلے ہیں۔
اس دوران لائیڈز لسٹ (Lloyd's List) کا تخمینہ ہے کہ 550 تجارتی جہازوں کو خلیج سے نکلنے کی تیاری کرنا ہو گی، جن میں 160 آئل ٹینکر، 200 کارگو جہاز، 60 کنٹینر جہاز اور 10 گاڑیاں لے جانے والے جہاز شامل ہیں۔
آبنائے ہرمز میں سمندری جہاز رانی 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس اہم راستے پر رک گئی تھی، کیونکہ تہران نے عملی طور پر اسے تقریباً مکمل طور پر بند کر دیا تھا، جبکہ واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا تھا۔
البت بدھ کی رات ڈونلڈ ٹرمپ اور مسعود پزشکیان کی جانب سے مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کے بعد امریکی افواج نے ایرانی بندرگاہوں سے محاصرہ اٹھا لیا... اور تہران نے اس اسٹریٹجک آبی راستے کو کھولنے کا اعلان کر دیا۔
ایرانی سرکاری ریڈیو و ٹیلی ویژن کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے کل ایک بیان میں نشاندہی کی کہ ہرمز سے گزرنے کے خواہش مند جہازوں کو درخواستیں ایک نئے حکومتی ادارے میں جمع کروانی ہوں گی جو اس آبی گزرگاہ کی نگرانی کا ذمہ دار ہے۔ کونسل نے یاد دہانی کرائی کہ مفاہمت کی یاد داشت کے تحت 60 دنوں تک کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
ایک برطانوی میری ٹائم اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کی جانب سے آبی گزرگاہ کھولنے اور محاصرے کے خاتمے کے ارادوں کے اعلان کے بعد آبنائے ہرمز میں سکیورٹی خطرے کی سطح کو کم کر کے "متوسط" کر دیا گیا ہے۔