سوئٹزرلینڈ میں ثالثوں نے اعلان کیا ہے کہ آج پیر کے روز امریکہ اور ایران کے اعلیٰ عہدے داروں کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم ہو گیا ہے، جبکہ تکنیکی مذاکرات باقی ہفتے کے دوران بورگن اشتوک کے مقام پر جاری رہیں گے۔
تہران کی جانب سے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اعلان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکیوں کے بعد، دو ثالث ممالک قطر اور پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران 60 دنوں کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر متفق ہو گئے ہیں۔
الكاتب الصحفي حسن المصطفى يوضح الأرضية الصلبة للتفاوض بين واشنطن وطهران: عدم حيازة إيران لسلاح نووي نقطة محسومة لدى الولايات المتحدة ودول الخليج.. وبعدها يمكن مناقشة التفاصيل pic.twitter.com/A3qOAIp9nt
— العربية (@AlArabiya) June 22, 2026
قطری وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق تکنیکی مذاکرات سوئس پہاڑی مقام میں باقی ہفتے جاری رہیں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فریقین لبنان میں لڑائی ختم کرنے کے طریقہ کار پر متفق ہو گئے ہیں اور تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حمل کے لیے رابطہ لائن کھول دی گئی ہے۔
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے گذشتہ اتوار ایرانی عہدے داروں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا تھا، جو گذشتہ ہفتے طے پانے والی مفاہمت کی یاد داشت کے تحت تھے۔ اس کا مقصد اپریل میں شروع ہونے والی جنگ بندی میں مزید 60 دنوں کی توسیع کرنا تھا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈٰیا پر بتایا کہ ان کے ملک نے تیل اور پیٹرو کیمیکلز کی برآمدات کے لیے چھوٹ، کچھ منجمد اثاثوں کی رہائی اور ایران میں تعمیر نو کے منصوبے کا آغاز حاصل کر لیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
رسمی مذاکرات شروع ہونے سے قبل فوکس نیوز نے اطلاع دی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حکام کو آگاہ کر دیا ہے کہ اگر انہوں نے آبنائے بند کرنے کی کوشش کی تو ان کے پاس کوئی ملک نہیں بچے گا۔ ٹرمپ نے ھمکی دی کہ امریکہ آبی گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کر لے گا اور شاید اس پر عبوری ٹیکس لگائے گا۔
امریکی اور ایرانی ذرائع نے الگ الگ بیانات دیے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایک با خبر ذریعہ کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ کی دھمکیاں عام ہونے کے بعد، ایرانی وفد نے مذاکراتی ہال میں واپس جانے سے انکار کر دیا، حالانکہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری رہا۔
تسنیم کے ذریعہ کے مطابق ایرانیوں کا کہنا تھا کہ جوہری مسائل پر بات چیت کے لیے مفاہمت کی یاد داشت کے دیگر حصوں پر عمل درآمد ضروری ہے، بشمول منجمد اثاثوں کی رہائی اور امریکی چھوٹ جس سے ایرانی تیل کی برآمد ممکن ہو۔
أستاذ العلوم السياسية ألكسندر تريكسال: الوضع معقد في الشرق الأوسط ما يجعل فترة الـ60 يوما غير كافية لتنفيذ النقاط الـ14 في مذكرة التفاهم الأميركية الإيرانية.. والأمر قد يستغرق وقتا أطول pic.twitter.com/I5Bq0cs8Ar
— العربية (@AlArabiya) June 22, 2026
مذاکرات میں شامل ایک امریکی سفارت کار نے روئٹرز کو بتایا کہ ایرانی موجود ہیں اور رات گئے تک بات چیت کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز، لبنان، جوہری معاملہ اور مفاہمت کی یاد داشت پر عمل درآمد کی تفصیلات پر بات ہوئی۔
معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تمام دشمن کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے، بشمول لبنان میں جہاں اسرائیل فضائی حملے کر رہا ہے اور ایران کی حلیف تنظیم حزب اللہ اسرائیلی اہداف پر حملے کر رہی ہے۔
ایران نے کہا کہ امریکہ نے لبنان میں لڑائی روکنے کا وعدہ پورا نہیں کیا، اس لیے اس نے آبنائے کے ذریعے سمندری نقل و حمل روک دی ہے... اور اتوار کے مذاکرات میں جوہری پروگرام جیسے بنیادی مسائل پر بات نہیں ہو گی۔
وینس نے لبنان میں تشدد کے اثرات کو کم کر کے پیش کیا اور کہا کہ وہاں دشمنی ختم کرنے کی جانب پیش رفت ہوئی ہے۔ امریکہ میں ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے اپنے حلیفوں کو نہ روکا تو وہ ایران پر حملے دوبارہ شروع کر دیں گے۔ معاہدے کے اعلان کے بعد سے خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں۔