اس معاہدے کے باعث سوئٹزرلینڈ کو عالمی امن کے مرکز کے طور پر دیکھا جانے لگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سوئٹزرلینڈ آج دنیا کے ان نمایاں مراکز میں شمار ہوتی ہے، جہاں ثالثی اور امن قائم کرنے کے لیے اہم بین الاقوامی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ یہ ملک اپنی سرزمین پر مختلف بین الاقوامی اداروں، تنظیموں اور متحارب فریقین کے درمیان حساس مذاکرات کی میزبانی کرتا ہے۔ اس مقام تک پہنچنا کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ صدیوں پر محیط سیاسی غیرجانبداری کی پالیسی کا تسلسل ہے، جسے جنیوا کنونشن کے ذریعے مزید تقویت ملی اور جدید انسانی قوانین کی بنیاد رکھی گئی۔

انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں جنیوا ایک ایسے تاریخی واقعے کا مرکز بنا ،جس نے جنگوں کے متاثرین کے ساتھ برتاؤ کے عالمی اصولوں کو بدل کر رکھ دیا۔ اسی دور میں سوئٹزرلینڈ کی یہ شناخت مزید مضبوط ہوئی کہ وہ تنازعات سے دور رہتے ہوئے انسانی المیوں کو کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے عملی کردار ادا کرتا ہے۔

مثالی تصویر 111
مثالی تصویر 111

یورپ کی جنگوں نے تحفظ کی ضرورت کو اجاگر کیا

انیسویں صدی میں یورپ مسلسل خونریز جنگوں کی لپیٹ میں رہا، جن میں لاکھوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ نپولینی جنگوں کے دوران بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا اور کئی سپاہی زندگی بھر کے لیے معذوری کا شکار ہو گئے۔

اسی طرح جب یورپی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی گئی تو 1850 کی دہائی کے وسط میں کریمیا کی جنگ چھڑ گئی، جس میں ایک جانب روس اور دوسری جانب عثمانی سلطنت اور اس کے اتحادی شامل تھے۔ اس جنگ میں پانچ لاکھ سے زائد فوجی ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر اموات بیماریوں، ناقص طبی سہولیات اور زخمیوں کے بروقت علاج نہ ہونے کے باعث ہوئیں۔

اس جنگ نے میدانِ جنگ میں زخمی فوجیوں کی ابتر حالت کو نمایاں کر دیا، جہاں انہیں اکثر گھنٹوں بلکہ بعض اوقات کئی دن تک علاج اور طبی امداد کے بغیر چھوڑ دیا جاتا تھا۔

ریڈ کراس کے بانی کے طور پر پہچانے جانے والے ہنری ڈننٹ کی تصویر
ریڈ کراس کے بانی کے طور پر پہچانے جانے والے ہنری ڈننٹ کی تصویر

ریڈ کراس کا قیام

جون 1859 میں سوئٹزرلینڈ کے کاروباری شخصیت ہنری ڈونن خود سولفرینو کی جنگ کے ہولناک مناظر کے عینی شاہد بنے، جو فرانسیسی اور سردینی افواج اور دوسری جانب آسٹریا کی فوج کے درمیان لڑی گئی تھی۔

ڈونن جنگ کے اختتام پر اس منظر سے شدید متاثر ہوئے، جہاں میدانِ جنگ میں لاشیں بکھری ہوئی تھیں اور ہزاروں زخمی بغیر کسی طبی امداد کے خون بہاتے ہوئے پڑے تھے۔

اس صورتحال پر انہوں نے مقامی آبادی کے تعاون سے زخمیوں کی مدد اور امدادی کارروائیاں منظم کیں۔تین سال بعد انہوں نے اپنی مشہور کتاب "سولفرینو کی یادیں" شائع کی، جس میں انہوں نے جنگ کے متاثرین کی مدد کے لیے مستقل انسانی تنظیموں کے قیام کی تجویز پیش کی۔

انہی خیالات نے آگے چل کر بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کی بنیاد رکھی، جو بعد میں دنیا کی اہم ترین انسانی امدادی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔

جنیوا کنونشن (پہلا معاہدہ)

اس دور میں طبی عملہ اور زخمی فوجی جنگوں کے دوران کسی بھی قانونی تحفظ سے محروم تھے، جس کی وجہ سے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنا انتہائی خطرناک کام بن چکا تھا۔

اس صورتحال کے پیش نظر سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے یورپی ممالک کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ امریکہ، میکسیکو اور برازیل کو بھی جنیوا میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں مدعو کیا تاکہ مسلح تنازعات کے دوران انسانی اصولوں پر اتفاق کیا جا سکے۔22 اگست 1864 کو پہلا جنیوا کنونشن طے پایا، جس میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ زخمی اور بیمار فوجیوں کو بلا امتیاز طبی امداد فراہم کی جائے گی، چاہے ان کا تعلق کسی بھی فریق سے ہو۔

اس معاہدے کے تحت طبی عملے اور صحت کے اداروں کو غیرجانبدار حیثیت دی گئی اور انہیں جنگی حملوں سے محفوظ قرار دیا گیا۔ اسی معاہدے میں ریڈ کراس کے نشان کو جنگوں کے دوران انسانی تحفظ کی عالمی علامت کے طور پر بھی تسلیم کیا گیا۔

سولفیرینو کی جنگ کی تصویر کشی کرنے والی پینٹنگ
سولفیرینو کی جنگ کی تصویر کشی کرنے والی پینٹنگ

جدید انسانی قانون کا آغاز

ابتدائی طور پر اس معاہدے پر فرانس، اسپین، بیلجیم، ڈنمارک، اٹلی، نیدرلینڈز، پرتگال، پرشیا، سوئس کنفیڈریشن اور اس وقت کی متعدد جرمن ریاستوں نے دستخط کیے۔بعد ازاں آنے والے برسوں میں مزید ممالک بھی اس میں شامل ہوتے گئے، جن میں برطانیہ، عثمانی سلطنت، سویڈن اور ناروے شامل تھے، جبکہ 1882 میں امریکہ نے بھی باضابطہ طور پر اس معاہدے کی توثیق کی۔

وقت کے ساتھ ساتھ اس معاہدے میں مختلف ترامیم اور توسیعات کی جاتی رہیں، جس کے نتیجے میں جنیوا کنونشنز بین الاقوامی انسانی قانون کا بنیادی حوالہ بن گئے۔ اسی عمل نے سوئٹزرلینڈ کو عالمی سطح پر مکالمے، امن اور انسانی سفارت کاری کے ایک اہم مرکز کے طور پر مزید مستحکم کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں