ایسا لگتا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے بورگن اشتوک ریزورٹ میں امریکی فریق کے ساتھ مذاکرات میں شریک ایرانی وفد کو دو روز قبل اپنی قومی ٹیم کا بیلجیم کے خلاف میچ دیکھنے کا وقت مل ہی گیا۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مرکزی بینک کے گورنر عبد الناصر ہیتی کی مذاکرات کے ہیڈکوارٹر میں جوش و خروش کے ساتھ میچ دیکھتے ہوئے وڈیو مناظر وائرل ہوئے ہیں۔
ان مناظر نے طنزیہ اور دل چسپ ملے جلے تبصروں کا ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ کچھ مبصرین نے سوال اٹھایا کہ کیا عراقچی مذاکرات سے توجہ ہٹا کر میچ میں مصروف ہو گئے تھے۔ جبکہ دیگر نے یہ اندازہ لگایا کہ شاید ایرانی وفد امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کے لیے اس وقت تک تاخیر کا شکار رہا ہو جب تک کہ میچ ختم نہ ہو جائے۔
ایرانی ٹیم نے اتوار کی رات لوس اینجلس میں گروپ جی کے تحت کھیلے گئے میچ میں اپنے بیلجیئن حریف کے ساتھ مقابلہ برابر کیا تھا، جس کے بعد وہ میکسیکو کے شہر تیخوانا میں اپنے ہیڈکوارٹر واپس آ گئی۔
خیال رہے کہ ایران جس نے اپنے افتتاحی میچ میں نیوزی لینڈ کے ساتھ 2-2 سے میچ برابر کھیلا تھا، اب گروپ مرحلے کا اپنا آخری میچ سیٹل میں مصر کے خلاف کھیلے گا۔