امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر کسی بھی قسم کا ٹول لگانا قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس امر کا اظہار منگل کے روز متحدہ عرب امارات پہنچنے پر کیا ہے۔ انہوں نے منگل کے روز خلیجی ملکوں کا دورہ شروع کیا ہے۔
مارکو روبیو نے دو ٹوک کہا 'آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔ اس لیے کسی بھی ملک کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اس گزرگاہ پر کوئی فیس یا ٹیکس عاید کرے۔ ہمیں توقع ہے کہ اس خطے کے سبملک ہمارے ساتھ اس سلسلے میں اتفاق کریں گے۔'
اس سے قبل ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا تھا اب آبنائے ہرمز کسی بھی صورت قبل از جنگ والی حالت میں نہیں آ سکے گی۔
امریکی وزیر خارجہ کا امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد خلیجی ملکوں کا یہ پہلا دورہ ہے جس کا منگل کو آغاز کیا گیا۔ مفاہمتی یادداشت پر صدر ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے پچھلے ہفتے دستخط کیے ہیں۔ جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بطور ثالث اس پر دستخط کیے ہیں۔
خلیجی ملکوں کے دورے کے سلسلے میں مارکو روبیو کویت اور بحرین بھی جائیں گے۔ وہ ایران سے جنگ کے بعد کے منظر نامے پر اپنے اتحادی خلیجی ملکوں کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔ ان کے موضوعات میں آبنائے ہرمز کا بغیر کسی فیس یا ٹیکس کے کھلنا اور ایرانی جوہری پروگرام اہم ترین ہیں۔ جمعرات کے روز بحرین میں وہ خلیجی تعاون کونسل کے ایک اجلاس میں بھی شریک ہوں گے۔
ادھر ایران کے صدر ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ساتھ پاکستان کے دورے پر منگل ہی کے روز پہنچے ہیں۔ ان کے ساتھ وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں۔ اس سے پہلے عباس عراقچی نے قالیباف کے زیر قیادت اومان کے سلطان ہیثم بن طارق سے بھی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ طور پر شروع کی گئی جنگ کے باعث خلیجی ملکوں کو بھی کافی نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ کہ ایران نے خلیجی ملکوں میں امریکی فوجی اڈوں کو جواز بنا کر تمام خلیجی ملکوں پر میزائل حملے کیا اور کئی جگہ پر ایئر پورٹس اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچایا ۔