اسرائیل اور لبنان کی جانب سے بفر زون کے کچھ حصے سے "انخلا" کی تردید

لبنانی سکیورٹی کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق "ہمیں اسرائیلی انخلا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں".

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی اور لبنانی اعلیٰ حکام نے آج جمعرات کو جنوبی لبنان میں بفر زون (علاقہ غیر) سے کسی بھی قسم کے اسرائیلی انخلا کی تردید کی ہے۔ یہ تردید ایک امریکی عہدیدار کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے لبنانی حکومت کے لیے خیر سگالی کے جذبے کے تحت خطے سے اپنی کچھ فوجیں واپس بلا لی ہیں۔

اس سے قبل آج امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی تھی کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ تنظیم کے ساتھ جنگ کے دوران قائم کیے گئے بفر زون کے ایک حصے سے انخلا کیا ہے۔

عہدیدار نے اسرائیلی پسپائی کو لبنانی حکومت کے لیے "خیر سگالی" کا جذبہ قرار دیا اور نشاندہی کی کہ اب لبنانی فوج کو اس علاقے میں جانا چاہیے جہاں سے اسرائیل نے انخلا کیا ہے۔

عہدیدار نے ان علاقوں کے رقبے یا انخلا کے مقام کی واضح نشاندہی نہیں کی۔

دوسری جانب ایک اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار نے نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے فوج کے انخلا کی تردید کی اور کہا "فوج اب تک جنوبی لبنان کے سکیورٹی زون سے پیچھے نہیں ہٹی ہے"۔

اسی طرح ایک اعلیٰ لبنانی سکیورٹی عہدیدار نے بھی کہا ہے کہ انہیں اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں قائم کیے گئے نام نہاد "بفر زون" سے فوجوں کے انخلا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔

اسرائیل اور لبنان امریکہ کی حمایت یافتہ ایک ایسی تجویز پر بات چیت کر رہے ہیں جس کے تحت اسرائیلی افواج حزب اللہ تنظیم کے ساتھ جنگ کے دوران قبضے میں لیے گئے علاقوں کا کچھ حصہ لبنانی فوج کے حوالے کر دیں گی، تاکہ لبنان مقبوضہ علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی جانب پیش قدمی کر سکے۔

"تجرباتی علاقہ" قائم کرنے کی تجویز واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی بات چیت کے تازہ ترین دور کا حصہ ہے، اگرچہ ایران کی جانب سے لبنانی معاملے کو امریکہ کے ساتھ اپنے مذاکرات میں شامل کرنے کی کوششوں کے باعث اس کی رفتار مدھم پڑ گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں