امریکی صدر ٹرمپ کو جمعرات کے روز امریکی سپریم کورٹ میں شام اور ہیٹی کے امریکہ میں عارضی مقیم لاکھوں شہریوں کو نکال باہر کرنے کے سلسلے میں بڑی حمایت مل گئی ہے۔ ان متوقع طور پر 'ڈی پورٹ' ہونے والوں میں بڑی تعداد ہیٹی کے شہریوں کی ہے۔
ان دونوں ملکوں کے جن شہریوں کو امریکہ بدر کیے جانے کی سپریم کورٹ نے راہ ہموار کی ہے۔ انہیں امریکہ نے کچھ عرصہ قبل 'ٹی پی ایس' عارضی بنیادوں پر امریکہ میں ٹھہرنے کے درجے میں قبول کیا تھا۔ تاہم اب امریکی انتظامیہ نے اس زمرے میں ان دونوں ملکوں کے شہریوں کو رہائش دینا مفید خیال نہیں کیا ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کے اس مؤقف کی اپنے فیصلے میں تصدیق کی ہے اور قرار دیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ فیصلہ نسلی بنیادوں پر نہیں ہے۔ فوری طور پر اس فیصلے کا اثر ہیٹی کے ساڑھے تین لاکھ جبکہ شام کے چھ ہزار شہریوں پر ہوگا۔
امریکی سپریم کورٹ جس میں رجعت پسند ججوں کی اکثریت ہے، اس کے ایک 9 رکنی پینل نے تین کے مقابلے میں چھ کی اکثریتی رائے سے ٹرمپ انتظامیہ کے مؤقف کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ عدالت کے فیصلے میں جسٹس سموئل الیٹو کی طرف سے لکھا گیا ہے کہ ٹرمپ انتطامیہ کا یہ اقدام نسلی بنیادوں پر نہیں بلکہ صدر ٹرمپ نے دوسری بار وائٹ ہاؤس پہنچنے کے لیے یہ مؤقف عوام کے سامنے رکھا تھا۔
ان ملکوں کے افراد کو ان ملکوں کے مخصوص جنگی حالات کی وجہ سے امریکہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس وقت غیر معمولی حالات تھے۔ اب ویسی صورت حال نہیں ہے۔ اس عدالت میں ہیٹی اور شام کے شہریوں نے ماہ اپریل میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے ملکوں میں اب بھی حالات اچھے نہیں ہوئے ہیں۔ اس لیے ابھی ہمیں امریکہ سے نہ نکالا جائے۔
کہا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد دس لاکھ سے زائد غیر ملکی تارکین وطن کو امریکہ سے 'ڈی پورٹ' کرنے کا موقع پیدا ہو جائے گا۔
جن ملکوں کے شہری زیادہ متاثر ہوں گے ان میں افغانستان، کیمرون، ایتھوپیا، ہنڈراس، میانمار، نیپال، نکاراگوا، صومالیہ، وینویلا اور یمن شامل ہیں۔
یاد رہے ہیٹی کے شہریوں کو 2010 میں 'ٹی پی ایس' کے کوار میں لیا گیا۔ جبکہ شام کو یہ درجہ 2012 میں دیا گیا۔