سعودی عرب میں نیشنل پروگرام فار ایفورسٹیشن (شجرکاری کے قومی پروگرام) نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سعودی گرین انیشیٹو کا آپریشنل روڈ میپ صرف 10 ارب درخت لگانے کے ایک مقداری ہدف تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد شجرکاری کے چھ بنیادی اصولوں کو لاگو کر کے ایک جامع ماحولیاتی تبدیلی لانا ہے جو مملکت میں ماحولیاتی نظام کو بدل دے۔ یہ اقدام سعودی ’’ ویژن 2030 ‘‘ کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔
پروگرام نے وضاحت کی کہ منظور شدہ اصول ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے پر مبنی ہیں جس کا مقصد مملکت میں متنوع ماحولیاتی خطوں سے فائدہ اٹھا کر اور سعودی ماحول کے لیے موزوں مقامی پودوں کی اقسام پر انحصار کرتے ہوئے نباتاتی احاطے (گرین کور) کے مملکت کے ماحولیاتی نظام کی نوعیت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کو یقینی بنانا ہے۔
سعودی شجرکاری کے قومی پروگرام نے کہا کہ مملکت نے مقامی پودوں کی 2250 سے زیادہ اقسام کی درجہ بندی کی ہے جن میں درخت، جھاڑیاں اور زمینی پودے شامل ہیں تاکہ شجرکاری کے منصوبوں کی کامیابی کو فروغ دیا جا سکے اور بیرونی یا جارحانہ پودوں کے استعمال سے بچا جا سکے جو ماحولیاتی نظام کے استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔
پانی کے وسائل کا پائیدار انتظام
پروگرام نے واضح کیا کہ شجرکاری کا استحکام پانی کے قابل تجدید ذرائع جیسا کہ بارش کے پانی، ٹریٹڈ پانی اور سمندر کے پانی کے استعمال پر بھی منحصر ہے۔ یہ قدرتی وسائل کو ختم کیے بغیر نباتاتی احاطے کی مدد کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ ان اصولوں میں نباتاتی احاطے کو بیرونی خطرات سے بچانے کو فروغ دیا جاتا ہے۔ ان بیرونی خطرات میں بے جا چرائی، انسانی سرگرمیاں اور جارحانہ پودوں کی موجودگی شامل ہے۔ اس سے پودوں کے قدرتی طور پر دوبارہ اگنے کے زیادہ مواقع ملتے ہیں۔
علمی مطالعات کے مطابق مقامات کا انتخاب
پروگرام نے تصدیق کی کہ شجرکاری کے مقامات کا انتخاب ایک درست جیو سپیشل تجزیہ کے مطابق کیا جاتا ہے جو ماحولیاتی اور موسمی حالات جیسا کہ بارش اور خشک سالی کی شرح کو مدنظر رکھتا ہے تاکہ ماحولیاتی مداخلتوں کی کارکردگی کو بڑھایا جا سکے اور بہترین ممکنہ نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ پروگرام نے مزید بتایا کہ یہ طریقہ کار ماحولیاتی موافقت کے سائنسی ماڈلز پر مبنی ہے جو خراب شدہ زمینوں کی بحالی اور صحرا زدگی کے خلاف جنگ کے عمل کی کامیابی کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔
معاشرہ شجرکاری کی کامیابی میں شراکت دار ہے
پروگرام نے شجرکاری کے اقدامات کے نفاذ میں سٹیک ہولڈرز اور مقامی برادری کو شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا کیونکہ وہ نباتاتی احاطے کی پائیدار ترقی کے حصول اور مملکت کی سطح پر ماحولیاتی اقدامات کے دائرہ کار کو وسیع کرنے میں ایک بنیادی عنصر ہیں۔ پروگرام نے کہا کہ رائل ریزروز قدرتی طور پر دوبارہ اگنے کا ایک عملی نمونہ ہیں جہاں ماحولیاتی نظاموں نے قدرتی تحفظ اور نباتاتی احاطے کی بحالی کو ترجیح دے کر کم سے کم براہ راست مداخلت کے ساتھ بحال ہونے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
قومی شجر کاری پروگرام نے زور دیا کہ شجرکاری اور بحالی کے تمام عمل صحرا زدگی کے خلاف جنگ کے لیے اقوام متحدہ کے طریقہ کار کے مطابق انجام دیے جاتے ہیں جو زمین کی بہتری اور انحطاط کی پیمائش کے لیے بین الاقوامی اشاریوں پر انحصار کرتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ سعودی گرین انیشیٹو کے اہداف کو حاصل کرنے اور مملکت میں ماحولیاتی توازن کو بحال کرنے میں مدد مل سکے۔