ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا: ٹرمپ کا دوٹوک مؤقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ہونے والے باہمی حملوں کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی سخت مخالفت کا اعادہ کیا ہے۔

ٹرمپ نے اتوار کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر جاری ایک پوسٹ میں کہا کہ ''ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا ''۔

انہوں نے یہ بیان اپنی ذات سے متعلق ان افواہوں اور جھوٹے دعوؤں کے جواب میں دیا، جن کا ذکر کتاب Regime Change: Inside the Imperial Presidency of Donald Trumpمیں کیا گیا ہے۔



فوجی کارروائی کا عندیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج (اتوار) ایک بار پھر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا دوبارہ طاقت کا استعمال کرے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی فوج نے ایران کے 10 مختلف مقامات پر فضائی حملے کیے، جن کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان میں فوجی تنصیبات اور ریڈار نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب (سپاہ پاسداران) نے بحرین اور کویت پر حملوں کا اعلان کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری تکنیکی مذاکرات اور سفارتی عمل کو ''مکمل طور پر روکنے ''کی دھمکی دی۔

ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے اس کارروائی کے جواب میں کیے گئے، جس میں ایران کی جانب سے ایک ڈرون کے ذریعے پاناما کے پرچم بردار آئل ٹینکر ''کیکو ''کو اس وقت نشانہ بنایا گیا، جب وہ آبنائے ہرمز کے قریب سے 20 لاکھ سے زائد بیرل خام تیل لے کر گزر رہا تھا۔

گزشتہ دو روز کے دوران تہران اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے باہمی حملوں نے دونوں ممالک کے درمیان ایک نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔

دونوں فریق اس جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات بھی کر رہے ہیں، جو امریکا اور اسرائیل نے گزشتہ فروری کے آخر میں شروع کی تھی۔ان حملوں نے ایک بار پھر اس خدشے کو اجاگر کیا ہے کہ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز اب بھی شدید خطرات سے دوچار ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور دیگر اہم تجارتی سامان کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 30 جون کو آئندہ مذاکرات متوقع ہیں، جن میں دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں جوہری پروگرام، ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے طریقۂ کار اور آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق امور پر بات چیت کریں گی۔

یہ مذاکرات 18 جون کو دونوں ممالک کے درمیان دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے تناظر میں ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں