امریکہ نے خلیجی ممالک کے ساتھ اشتراک کرتے ہوئے ایرانی حمایت یافتہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان منگل کے روز سامنے آیا ہے ، جب اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک معاہدے پر اتفاق ہوئے ابھی محض چند دن گزرے ہیں۔
امریکہ کو خلیجی ملکوں کا اس سلسلے میں تعاون ملنا نئے حالات میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔ منگل کے روز 'ٹی ایف ٹی سی' کے نام سے مشہور 'ٹیرر فنانسنگ ٹارگیٹنگ سنٹر' نے اس سلسلے میں باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ اس اعلان میں امریکہ کے علاوہ بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر اور اومان شامل ہیں۔
باہمی رابطہ کاری کی بنیاد پر لگائی پابندیوں کی زد میں لبنانی حزب اللہ کے ادارے القرضہ الحسنہ ، بیت المال اور سینیئر حکام آئے ہیں۔
امریکہ کی محکمہ خزانہ کے مطابق مجموعی طور پر حزب اللہ سے متعلق پانچ اداروں اور 16 افراد پر پابندیاں لگائی ہیں۔
محکمہ خزانہ کے اس سلسلے میں جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ٹی ایف ٹی سی' کی طرف سے حزب اللہ کے نیٹ ورک کو پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہونے کی بنیاد پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ نیز اس نیٹ ورک کی وجہ سے بین الاقوامی سلامتی کے علاوہ باہمی مفادات اور عالمی تجارت کو درپیش خطرات لاحق تھے۔
بیان کے مطابق ان پابندیوں کے نتیجے میں اب حزب اللہ فنڈنگ حاصل کرنے سے رک جائے گی۔ ان پابندیوں کے ذریعے اندازہ ہوتا ہے کہ 'ٹی ایف ٹی سی' کے رکن ممالک بین الاقوامی مالیاتی نظام ، لبنانی عوام کی حمایت کے لیے، دہشت گردی کے لیے نیٹ ورک روکنے کے لیے متحد ہیں۔
'ٹیرر فناسنگ ٹارگیٹنگ سنٹر' کا قیام 2017 میں عمل میں لایا گیا تھا۔ یہ ادارہ صدر ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں اس لیے قائم کیا گیا کہ دہشت گردی کے لیے فنانسنگ کو روکا جا سکے۔ دہشت گردی کے لیے ملنے والے فنڈز کے حوالے سے معلومات کی شیئرنگ کی جا سکے۔ تاکہ دہشت گردانہ اقدامات کو نقصان پہنچانے کے لیے پابندیاں بھی لگائی جا سکیں۔ نیز دہشت گردی کے خلاف اہلیت بڑھانے کا کام کیا جا سکے۔ واضح رہے 'ٹی ایف ٹی سی' کےشریک چیئرمین سعودی عرب اور امریکہ ہیں۔