ٹرمپ پر 2024 کے قاتلانہ حملے کے دوران 102 ریڈیو کالز سے لاعلمی پر خفیہ سروس قصوروار قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک سرکاری نگراں ادارے کی جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جس حملہ آور نے 2024 میں بٹلر، پنسلوانیا میں انتخابی ریلی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کیا تھا، امریکی خفیہ سروس کو اس کے بارے میں مقامی ریڈیو کی 102 ٹرانسمیشنز موصول نہیں ہوئیں۔

محکمہ داخلی سلامتی کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق ایجنسی 13 جولائی 2024 کو قانون نافذ کرنے والے مقامی اداروں کے ساتھ ایک مشترکہ کمیونیکیشن روم قائم کرنے میں ناکام رہی تھی جس کے باعث وہ ان ٹرانسمیشنز سے لاعلم تھی جن میں اسے مشکوک شخص کی تلاش کے بارے میں اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔ اسے بعد میں تھامس کروکس کے نام سے شناخت کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا، "اس کے بجائے ہمیں پتا چلا کہ خفیہ سروس کو کروکس کے بارے میں صرف پانچ فون کالز اور تین ٹیکسٹ پیغامات موصول ہوئے۔

نتیجتاً خفیہ سروس کے ارکان نے صدر ٹرمپ کی حفاظتی معاملات کے حوالے سے کسی مشکوک شخص کے خدشات سے آگاہ نہیں کیا۔"

کروک جسے ریلی میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا، نے اس وقت گولی چلائی جب ٹرمپ سٹیج پر تقریر کر رہے تھے۔ حملے میں ایک راہگیر ہلاک اور کان میں گولی لگنے سے ٹرمپ سمیت دیگر افراد زخمی ہوئے۔

کروکس نے ایک قریبی چھت تک رسائی حاصل کی تھی جہاں سے وہ ٹرمپ کو براہِ راست دیکھ سکتا تھا۔

خفیہ سروس نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کروکس نے فائرنگ کرنے سے چند گھنٹے قبل علاقے میں ڈرون اڑایا تھا۔ ڈرون کی پرواز کا سراغ نہیں مل سکا کیونکہ خفیہ سروس کا کاؤنٹر ڈرون سسٹم ناکارہ تھا۔

انسپکٹر جنرل کے مطابق کاؤنٹر ڈرون سسٹم کا انتظام ایک واحد "کم تربیت یافتہ" آپریٹر نے کیا تھا جس نے ایونٹ سے پہلے اس کی جانچ نہیں کی۔

رپورٹ کے مطابق یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش میں آپریٹر کو کئی گھنٹے لگے اور اس دوران مشتبہ شخص نے تقریباً نو منٹ کی ڈرون پرواز کی جس کا سراغ نہیں مل سکا۔

سرکاری نگراں اداروں اور کانگریسی پینلز کی تحقیقات میں اس تقریب کے لیے خفیہ سروس کے حفاظتی انتظامات میں بڑی کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی اور جمعرات کی رپورٹ اس سلسلے میں تازہ ترین تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں