ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ شرقِ اوسط میں امن کی کوششیں علاقائی حمایت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتیں اور اسرائیل کو امریکہ اور ایران امن معاہدے کو "سبوتاژ" کرنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔
استنبول میں پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے گفتگو کرتے ہوئے ایردوآن نے کہا: "کوئی بھی حل علاقائی ممالک کی مرضی اور شراکت بغیر دیرپا نہیں ہو سکتا۔"
نیٹو کے رکن اور ایران کے ہمسایہ ترکی نے بارہا اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امریکہ ایران معاہدے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے اور غزہ، لبنان اور شام میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کر چکا ہے۔
ایردوآن نے کہا، کہ "ہم اسرائیلی انتظامیہ کی (امریکہ-ایران) معاہدہ تباہ کرنے کی کوششوں پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جنگ کی عادی موجودہ اسرائیلی حکومت کو ہمارے جغرافیے کو بارود اور خون کی بو میں دوبارہ ڈبونے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔"
انہوں نے یہ بھی کہا، ترکی کا مقصد پاکستان کے ساتھ توانائی، نقل و حمل، اہم معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دفاع میں تعاون کو مزید مستحکم جبکہ پانچ ارب ڈالر کا دوطرفہ تجارتی ہدف حاصل کرنا ہے۔
اس سے قبل ہفتے کے روز دونوں ممالک کے حکام نے استنبول میں بزنس فورم میں شرکت کی۔ ترکی کے وزیرِ توانائی الب ارسلان بیرقدار نے کہا، ترک فرمز پاکستان میں منصوبوں میں شرکت اور ترکی کی توانائی کے شعبے کی مہارت کا اشتراک کرنا چاہتی ہیں کیونکہ پاکستان اپنے بجلی کے شعبے میں تبدیلی سے گذر رہا ہے۔