وینزویلا: زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً 3000 ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

وینزویلا کے حکام نے حالیہ زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں اپ ڈیٹ کرتے ہوئے ہفتہ کے روز بتایا ہے کہ یہ تعداد اب تک 3000 ہو چکی ہے۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی امدادی ٹیمیں ملبے سے زخمیوں اور ہلاک شدگان کو نکالنے کے لیے کوششیں کرتی رہی ہیں۔ تاہم جمعہ کے روز مزید 300 افراد ہلاک ہوگئے۔ جس کے نتیجے میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 2954 ہوگئی ہے۔

وینزویلا میں یہ زلزلہ 24 جون کو آیا تھا۔ جس کے نتیجے میں سینکڑوں مکان گر گئے اور ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے۔ یہ بے گھر افراد جگہ جگہ خیموں میں رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اب بھی دسیوں ہزار افراد کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ وہ لاپتہ ہیں۔ مگر حکومت اس بارے میں کوئی حتمی اندازہ کرنے سے قاصر ہے۔ البتہ اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق اس کے 7.2 کی سطح کو چھو جانے والا زلزلہ اور اس کے بعد 7.5 کی سطح کو چھو جانے والے آفٹر شاکس کے نتیجے میں 50000 لوگ لاپتہ ہیں۔

زلزلے کے بدترین اثرات دارالحکومت کاراکس کے شمال میں واقع ساحلی علاقے لاگوائرا میں دیکھنے کو ملے۔ یہاں کی درجنوں کثیر منزلہ رہائشی عمارتیں تباہ ہوگئیں۔

زلزلے کے 10 دن بعد دوبارہ سے 38 سیکنڈ کے وقفے کے ساتھ دو آفٹر شاکس آئے۔ اب یہ صورتحال ہے کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتہ افراد کے بچاؤ اور تلاش کے لیے اپنی سرگرمیوں کو مکمل کر رہی ہیں۔ جبکہ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی لاشیں اب بھی ملبے سے نکال رہے ہیں۔

زلزلے کے عام طور پر 72 گھنٹوں بعد تک ریسکیو ٹیمیں اپنا کام مکمل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ تاہم اب بھی کئی لوگوں کو ملبے سے زندہ نکالا گیا ہے۔ اگرچہ ظاہری طور پر یہی دیکھنے میں آرہا ہے کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہو رہا ہے۔

عبوری صدر ڈیلسی روڈرک نے بین الاقوامی امدادی ٹیموں کے کارکنوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان میں میڈلز تقسیم کیے ہیں۔ عبوری صدر نے کہا زلزلے نے پورے وینزویلا کو غمناک کر دیا ہے۔

متاثرہ خاندانوں کے لوگ اب بھی امید کرتے ہیں کہ ان کے لاپتہ ہوجانے والے عزیز زندہ ہوں گے۔ جبکہ متاثرہ افراد اس زلزلے میں تقریباً ہر چیز کھو بیٹھے ہیں۔

آفات سے نمٹنے کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی ٹیموں میں امریکی سکواڈ بھی شامل ہیں۔ جبکہ بعض ٹیموں کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے۔ ان کے ارکان نے ہفتہ کے روز کہا کہ وہ اپنا کام مکمل کرنے والے ہیں۔

امریکی شہر لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والی ایک ریسکیو ٹیم نے کہا کہ ان کا کام مکمل ہونے والا ہے اور اب ملبے کے نیچے زندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔

اسی طرح فلوریڈا اور ورجینیا سے تعلق رکھنے والی امریکی امدادی ٹیمیں بھی اس ہفتہ کے اختتام پر واپس روانہ ہونے کی تیاری میں ہیں۔

بہت سے وینزویلا کے عوام اپنی حکومت کے ریسپانس کو ناقابل اطمینان قرار دے کر اس پر ناراض ہیں۔ ان کا کہنا ہے بین الاقوامی امدادی ٹیموں کے آنے تک مقامی لوگ اپنے لوگوں کی لاشیں نکالنے کے لیے خود ہی ملبہ ہٹاتے رہے۔

عبوری صدر کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے بروقت مدد کی کوشش کی ہے اور اس آپریشن میں ہزاروں فوجی اور حکام فوری طور پر عوام کی مدد کے لیے روانہ کر دیے گئے تھے۔

وینزویلا سے تعلق رکھنے والے رضاکار فرانسسکو سسکیا نے کہا ہم اب بھی کام کر رہے ہیں۔ تاکہ جو لوگ جاں بحق ہو گئے ہیں ان کی لاشیں ملبے سے نکالی جا سکیں۔ اس کام کے لیے ابھی تک مصروف ہیں۔ تاہم یہ آسان نہیں ہے۔

زلزلے کے معاشی اثرات

اقوام متحدہ کے ایک تخمینے کے مطابق دونوں زلزلوں سے 6.8 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ یہ وینزویلا کے جی ڈی پی کا 6 فیصد بنتا ہے۔ پچھلے ہفتے کے زلزلے سے پہلے بھی وینزویلا اپنے سیاسی و معاشی بحرانوں سے نمٹنے کی جدوجہد میں لگا ہوا تھا۔

زلزلے کی وجہ سے ملک کے اہم بین الاقوامی ایئرپورٹ کو بھی نقصان پہنچا ہوا ہے۔ دارالحکومت کے نزیدک لاگوائرا میں بھی ایئرپورٹ کو سخت نقصان پہنچا۔ تاہم جزوی طور پر اسے بحال کیا گیا ہے تاکہ انسانی بنیادوں پر امداد لے کر آنے والی پروازیں اتر سکیں۔ البتہ کمرشل پروازیں ابھی بند پڑی ہیں۔

عبوری صدر نے کہا ہمارا بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطہ ہے اور ہم ان کی مدد سے اپنے اس بین الاقوامی ایئرپورٹ کو بحال کر سکیں گے۔ ہم اگلے ہی ہفتے اس سلسلے میں ایک منصوبہ بھی پیش کرنے والے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size